اقوام متحدہ کی طالبان انتظامیہ سےشیعہ مسلمانوں پر حملے رکوانے کی اپیل
شیعیت نیوز: اقوام متحدہ نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ سے ، شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی روک تھام کی اپیل کی ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر یوناما کے جاری کردہ ہینڈ آوٹ میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعے کے روز مغربی کابل میں عزاداران حسینی کے درمیان ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ داعش نے قبول کی تھی اس حملے میں سو کے قریب عزادار شہید و زخمی ہوئے تھے۔
ہفتے کے شام بھی کابل کے شیعہ آبادی والے علاقے پل سوختہ میں ہونے والے بم دھماکے میں آٹھ افراد شہید ہوگئے تھے۔
دوسری جانب طالبان انتظامیہ نے اپنے وعدے کے برخلاف صوبہ بلخ اور اس کے صدر مقام مزار شریف میں، عزاداری اور ماتمی جلوسوں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔
بلخ پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزارت داخلہ اور وزارت امر بالمعروف کے جاری کردہ احکامات کے مطابق لوگ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں عزاداری کرسکتے ہیں اور ان کا جلوس کی شکل میں سڑکوں اور چوراہوں پر آنا ممنوع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کابل میں مسجد کے قریب بم دھماکے میں آٹھ حسینی عزادار شہید
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جاپان پر امریکہ کے ایٹمی حملے کی ستترویں برسی کی مناسبت سے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ بشریت موجودہ بحرانوں کے ماحول میں لوڈ شدہ بندوق سے کھیل رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انٹونیو گوترش نے ہیروشیما میں انیس سو پینتالیس میں ایٹمی بمباری کے شکار افراد کی یاد میں منعقدہ سالانہ پروگرام میں عالمی رہنماؤں سے ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ کرنے کی اپیل کی۔
انھوں نے کہا کہ ستتر سال قبل دسیوں ہزار افراد اچانک اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں مرد عورتیں اور بچے سبھی شامل ہیں جبکہ جو باقی بچے بھی وہ بھی ریڈیو اکٹیو مواد کے نتیجے میں مختلف بیماریوں منجملہ کینسر جیسے امراض میں مبتلا ہو کر مرتے رہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اس وقت جوہری مفہوم کا حامل ہولناک بحران بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور بشریت، موجودہ بحرانوں کے ماحول میں لوڈ شدہ بندوق سے کھیل رہی ہے۔
واضح رہے کہ چھے اگست انیس سو پینتالیس کو ہیروشیما پر امریکہ کی ایٹمی بمباری میں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد مارے گئے تھے جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو اس بمباری کے بعد پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے جبکہ امریکہ نے تین دن بعد ناگاساکی پر بھی، ایٹم بم مارا کہ جس میں لگ بھگ چوہتر ہزار افراد مارے گئے ۔







