عراقچی اسلام آباد پہنچ گئے، مذاکرات کا دوسرا دور شروع، ایران کے پاس تین بڑے عسکری آپشن بھی تیار

25 اپریل, 2026 12:16

شیعیت نیوز : ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ محض دباؤ کے ذریعے ایران سے بات نہیں کی جا سکتی، چنانچہ انہوں نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے اور ایرانی تجاویز کے منتظر ہیں۔

اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ موجودہ صورتحال کو برقرار رکھیں گے اور بتدریج خطے سے پیچھے ہٹ کر ایران کو اسرائیل اور عرب ریاستوں کے ساتھ خود کسی حل تک پہنچنے کے لیے چھوڑ سکتے ہیں۔ تاہم قوی امکان ہے کہ ایران اپنی قومی عزت اور وقار پر مبنی ایک ٹھوس تجویز پیش کرے گا جس کے بعض نکات پر مزید مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے۔

اگر امریکہ بدستور آبنائے ہرمز کا محاصرہ جاری رکھے اور دباؤ بڑھائے تو ایران کے پاس تین اہم عسکری آپشن موجود ہیں۔ پہلا یہ کہ یمنی مزاحمت باب المندب بند کر سکتی ہے جہاں سے دنیا کی 10 سے 12 فیصد تجارت گزرتی ہے، جس سے یورپ اور بحرِ روم کی تجارت بری طرح متاثر ہو گی اور تجارتی جہازوں کو جنوبی افریقہ کے راستے 10 سے 15 دن اضافی سفر کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ ناشتہ کرنا ناصبی تکفیری ہشام الٰہی ظہیر کو مہنگا پڑ گیا

دوسرا آپشن مزاحمتی محور کی زمینی کارروائیاں ہیں، جن کے تحت عراقی مزاحمتی تنظیمیں کویت اور سعودی عرب کی جانب پیش قدمی کر کے امریکی زیرِ اثر تیل کے ذخائر کو نشانہ بنا سکتی ہیں، جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات پر بھی ہمہ جہتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تیسرا آپشن افریقہ اور وسطی ایشیا میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ سائبر حملوں کے ذریعے امریکی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنا ہے۔

اب سب کی نظریں اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور پر ہیں کہ یہ خطے کو کس سمت لے جاتا ہے۔

1:47 شام اپریل 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔