صہیونی دشمن کو فلسطینی قوم کو نقصان پہنچانے سے روکا جائے، اسماعیل ہنیہ

05 اگست, 2022 05:29

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ قابض صیہونی ریاست کے رہنماؤں کی طرف سے دی گئی دھمکیاں، خاص طور پر صہیونی دشمن کے وزیر دفاع گینٹز کی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی دشمن کو نکیل ڈالی جائے تاکہ دشمن کو فلسطینی قوم کو نقصان پہنچانے سے روکا جائے۔

یہ بات حماس کے صدر اور اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹور وینس لینڈ کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آئی، جس کے دوران دونوں فریقوں نے حالیہ سیاسی اور میدانی پیش رفت، قابض ریاست کے ذریعے کی گئی گرفتاریوں، دراندازیوں، گرفتاریوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاریوں اور غزہ کی گذرگاہوں کی بندش پر تبادلہ خیال کیا۔

اسماعیل ہنیہ نے زور دے کر کہا کہ قابض ریاست  کو جارحیت جاری رکھنے سے روکنے میں اقوام متحدہ کا اہم کردار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مغربی کنارے کے شمال سے اس کے جنوب تک قابض ریاست اور غزہ کی پٹی کے محاصرے کو برقرار رکھنے کی ایک منظم اسرائیلی پالیسی کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونیوں کو محاصرے میں لے لیا ہے، اسلامی جہاد تنظیم

دوسری جانب حماس کے عرب اور اسلامی تعلقات کے دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے زورے دے کرکہا ہے قابض ریاست اس عرصے کے دوران‘‘ اپنے انتخابی پروپیگنڈے کے ایک حصے کے طور پر فلسطینی عوام کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔’’

الحہ نے مقامی الاقصیٰ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے زور دیا کہ ’’غزہ اپنے انتخابات سے پہلے صہیونی تنازعات کی قیمت ادا نہیں کرے گا۔ کیونکہ مزاحمت جانتی ہے کہ کس طرح قبضے پر دباؤ ڈالنا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت بالغ ہے اور وہ جانتی ہے کہ مسلسل تصادم کی بنیاد پر کب اور کہاں لڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کا مقصد قبضے کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم قابض ریاست  کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام میدانوں میں متحد ہیں اور ہم کسی بھی فلسطینی میدان کو اکیلا نہیں چھوڑٰیں گے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں فیلڈ کی صورت حال کے بارے میں الحیہ نے وضاحت کی کہ قابض ریاست  وہاں کی صورت حال کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جلتی پر تیل ڈال رہا ہے۔ آباد کاروں کی جارحیت سے علاقے میں آگ بھڑک رہی ہے اور جو بھی آگ لگاتا ہے۔اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

الحیہ نے مغربی کنارے میں مزاحمت میں اضافے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عمومی قومی صورت حال بن گئی ہے، جس میں تمام فرقوں کے فلسطینی عوام شامل ہیں اور ہم ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی صہیونی ریاست کی طرف داری اور تعصب مسئلہ فلسطین کے حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

 

1:51 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔