غزہ کی فضا میں اسرائیل کا فضائی ہدف پرمیزائل حملہ
شیعیت نیوز: مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے علاقے رفح کے مشرق میں سرحدی باڑ کے اندر دیوار فاصل سے متصل علاقے کے فضا کی طرف ایک میزائل داغا۔
قابض اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ آئرن ڈوم نے غزہ کی پٹی کی فضا میں ’’مشکوک پرواز کرنے والی چیز‘‘ پر حملہ کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہوائی ٹکڑا‘‘ پورے واقعے کے دوران فضائی کنٹرول یونٹس کے کنٹرول میں تھا اور اس نے اسرائیلی فضائی حدود (مقبوضہ فلسطینی علاقوں) کی خلاف ورزی نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں : طولکرم میں اسرائیلی قابض افواج یونیورسٹی طلبہ پر چڑھ دوڑی، 10 فلسطینی اغوا کرلیے
دوسری طرف جمعرات کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں شہید نزاربنات کے اہل خانہ نے سیکیورٹی فورسز پر الزام لگایا کہ ان کے ایک بیٹے (عمار مجدی بنات) کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری عباس ملیشیا کی جانب سےعمل میں لائی گئی۔
نزار خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کے بیٹے عمار کو رام اللہ شہر سے واپسی کے دوران گرفتار کیا۔ عمار نے بیرزیت یونیورسٹی میں اسلامی بلاک کی کامیابی کے ہونے والی تقریب میں خاندان کی نمائندگی کی تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے اس کے مطابق اس نے وزیراعظم محمد شتیہ کے ماتحت سیکیورٹی سروسز اور اتھارٹی کو جو عمار کی گرفتاری اور زندگی کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار قرار دیا۔
خیال رہے کہ 44 سالہ نزار بنات گذشتہ سال 24 جون کو فلسطینی سیکیورٹی فورس کے ہاتھوں گرفتاری کے چند گھنٹے بعد تشدد کرکے قتل کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے سے قاصر ہے، آران عتزیون
دریں اثنا اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ندیم صابرنا کے خلاف حکم جاری کیا ہے جس سے ندیم کو چار ماہ کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا آفس کے مطابق ندیم صابرنا کو 15 مئی 2012 کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر بیت عمار سے گرفتار کیا تھا۔ یہ علاقہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع ہے۔ اسے جیل بھیجا گیا تھا۔ اب اسے عوفر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پر کوئی مقدمہ نہیں چلایا گیا۔
صابرنا اب تک مختلف جیلوں میں آٹھ سال گزار چکے ہیں۔ اسے بار بار رہا کر کے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں اسرائیلی جیلوں میں 2012 میں ہونے والی بڑے پیمانے کی گئی بھوک ہڑتال میں شرکت پر گرفتار کیا گیا تھا۔







