کانگو میں موساد کے سابق چیف کو ملک بدر کیے جانےکا انکشاف

19 مئی, 2022 08:52

شیعیت نیوز: اخبار ’دی مارکر‘ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے بدنام زمانہ خفیہ ادارے’موساد‘ کے سابق سربراہ ’’یوسی کوہن‘‘ نے اپنے دور حکومت میں تین بار کانگو کا دورہ کیا مگرانہوں نے وہاں کے حکام سے پہلے سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔

اخبار نے تصدیق کی کہ کانگو نے کوہن کو تیسرے دورے پر ملک بدر کر دیا اور مطالبہ کیا کہ وہ کانگومیں دوبارہ نہ جائیں۔

اخبار کے مطابق اسرائیلی سینسر بورڈ نے موساد کے سربراہ کے کانگو کے سابقہ دوروں کے بارے میں تفصیلات کی اشاعت سے روک دیا جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی سیکیورٹی حکام کی طرف سے فراہم کردہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوروں کا مقصد مشکو ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی حکام نے کوہن کے کانگو کے اچانک دوروں کو قومی سلامتی کا مفاد قرار دیا، لیکن اخبار نے زور دیا کہ اس کا مقصد یہ نہیں تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قومی سلامتی کے مفاد سے دور ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نسل انسانی کی افزائش کے لئے کوشش اور خاندان کی حمایت اہم فرائض کا حصہ ہیں، رہبر معظم

دوسری جانب مقبوضہ فلسطین میں باہر سے لاکر بسائے گئے صیہونیوں نے اپنے وزیر اعظم نفتالی بنت کے خلاف جم نعرے لگائے۔

صیہونی ٹی وی چینل کے مطابق، بدھ کو مقبوضہ غرب اردن کی کیدا چھاونی میں بسائے گئے صیہونیوں نے اس وقت نفتالی بنت کے خلاف نعرے بازی کی جب وہ فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوئے صیہونی فوجی کے گھر والوں سے ملنے پہونچے۔

بنت کے پہونچنے پر صیہونیوں نے ڈرپوک بنت اور جھوٹے بنت جیسے نعرے لگائے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جمعہ کو غرب اردن کے جنین کیمپ پر صیہونی فوجیوں کی چڑھائی کے دوران فلسطینی مزاحمتی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران صیہونی فوجی نعوم راز ہلاک ہوگیا تھا۔

3:50 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top