عرب ممالک کے حکمرانوں کو اسرائیل کے وحشیانہ جرائم پر حق السکوت ملتا ہے
شیعیت نیوز: فلسطین کے تجزیہ نگارعبدالمجید السویلم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے وحشیانہ مظالم اور جرائم پر خاموش رہنے کے لئے عرب ممالک کے حکمرانوں کو حق السکوت ملتا ہے۔
عبدالمجید کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کے حکمرانوں کو فلسطینیوں پر اسرائیل کے سنگين جرائم اور مظالم پر خاموش رہنے کے لئے حق السکوت اور رشوت ملتی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کے مطابق خلیج فارس کی عرب ریاستیں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بر قرار کررہی ہیں جبکہ یہی عرب ریاستیں فلسطینیوں پر اسرائیل کے سنگین جرائم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
عبدالمجید السویلم کا کہنا ہے کہ بعض عرب ممالک تو فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی حمایت کرتے ہیں اور بعض فقط زبانی مذمت کرتے ہیں۔ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد ہے۔
انھوں نے کہا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں یوم قدس اور فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یکجہتی نہیں منایا جاتا ۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا عرب حکمرانوں کی اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت اور غداری ہے اور مسلمان عرب ممالک کے غدار حمکرانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : مسجدالاقصی میں نماز عید الفطر کا روح پرور اجتماع، 2 لاکھ فلسطینی سر بسجود
دوسری جانب عبرانی اخبار ’’یروشلم پوسٹ‘‘ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ سے تعلق رکھنے والے بڑے کارگو طیارے پچھلے دو ہفتوں کے دوران کئی بار اسرائیل میں اترے ہیں۔
عبرانی اخبار نے کہا کہ ان پروازوں کے اترنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن شبہ ہے کہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت، سیکیورٹی اور فوجی ساز و سامان کی نقل و حمل کر رہے ہیں۔
اخبار نے مزید کہا کہ 8 بھاری کارگو طیارے جو تمام متحدہ عرب امارات کی فضائیہ سے تعلق رکھتے تھےگذشتہ دو ہفتوں کے دوران صحرائے نقب میں اسرائیلی نیواتیم فوجی ہوائی اڈے پر اترے۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی وزارت دفاع میں فوجی اور سیکیورٹی برآمدات کے ذمہ دار شخص نے اس اپریل کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ گذشتہ سال اسرائیلی فوجی برآمدات کی مالیت 11.2 بلین ڈالر تھی اور ان میں سے 7 فیصد عرب کی تھیں۔ وہ ممالک جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔







