تیونس کی طرف سے ترک صدر رجب طیب اردوغان کی مذمت

07 اپریل, 2022 09:23

شیعیت نیوز: تیونس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تیونس کے صدر کی جانب سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے پر ترک صدر رجب طیب اردوغاان کا مذمتی بیان تیونس کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت ہے جو ناقابل قبول ہے۔

اطلاعات کے ماطابق ترک صدر رجب اردوغان نے تیونسی صدر قیس سعید کے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے حکم نامے کو جمہوریت مخالف عمل کہا تھا اور اسے تیونس کے عوام کی خودمختاری پر ” کاری ضرب” سے تعبیر کیا تھا۔

تیونس کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترک صدر کا یہ تبصرہ ملکی معاملات میں ناقابل قبول مداخلت ہے۔

وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ تیونس اپنے دوست ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کا حامی ہے لیکن ملک سے متعلق اپنے فیصلے کی آزادی پر قائم ہے اور اپنی خودمختاری میں کسی دوسرے ملک کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔

تیونس کے وزیر خارجہ عثمان جیراندی نے ٹویٹر پر کہا کہ انہوں نے تیونس میں ترک سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے ترک صدر اردوغان کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی پارلیمان میں اسرائیلی وزیراعظم اکثریت سے محروم ہوگئے

دوسری جانب امریکی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا کے ایک سو پچپن ملکوں میں امریکہ کے تقریبا چارلاکھ فوجی تعینات ہیں

فارس نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے چیف آف آرمی اسٹاف مارک میلی نے کہا کہ چین اور روس بڑی فوجی صلاحیت کے حامل ہیں اوردونوں ہی دنیا کا موجودہ نظام تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔

امریکی فوج کے سربراہ نے دعوی کیا کہ یوکرین پر روس کا حملہ صرف یورپ کے امن واستحکام کے لئے خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ حملہ پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔

مارک میلی نے کہا کہ ہم کسی بھی ایسے خطرے کا جواب دینے کے لئے تیار ہیں جو امریکہ اور اس کے مفادات کے لئے خطرناک ہو۔

یاد رہے کہ روس نے چوبیس فروری سے یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا ہے ۔

روسی صدر ولادیمیرپوتین نے اس فوجی آپریشن کا مقصد ان افراد کی حمایت بتایا ہے جنھیں آٹھ برسوں سے کیف حکومت کے ہاتھوں نسل کشی کا سامنا ہے ۔

1:28 صبح اپریل 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔