اسرائیلی پارلیمان میں اسرائیلی وزیراعظم اکثریت سے محروم ہوگئے
شیعیت نیوز: اسرائیلی پارلیمان کے ایک رکن مذہبی جھگڑے کی بنیاد پر حکومت سے علیحدہ ہوگئے جس کے بعد اسرائیلی حکومت ایوان میں اکثریت سے محروم ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمان 120 ارکان پر مشتمل ہے، اسرائیلی وزیراعظم کو ایوان میں سادہ اکثریت حاصل تھی لیکن اب ایک رکن کی علیحدگی کے بعد ایوان میں اُن کی اکثریت 60 ارکان پر مشتمل ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت چھوڑنے والی رکن کا تعلق وزیراعظم کی مذہبی جماعت سے ہے، جس کے بعد اسرائیل کی موجودہ حکومت کو دوبارہ الیکشن کی طرف جانا پڑسکتا ہے۔
اسرائیل میں گزشتہ 3 برس میں پانچ بار الیکشن ہوچکے ہیں، موجودہ اسرائیلی حکومت کے اتحاد میں 8 سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اپوزیشن وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرسکتی ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ گزشتہ برس نفتالی بینٹ نے سابق وزیراعظم بین یامین نتن یاہو کی 12 برس سے قائم حکومت کو غیر فطری اتحاد کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکومت میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں جن کے نتیجے میں وہ خود بخود مرجائےگی۔
یہ بھی پڑھیں : کابل میں پل خشتی میں واقع جامع مسجد پر دستی بم سے حملہ، 6 افراد زخمی
دوسری جانب اسرائیلی وزیر داخلہ امر بار لیو نے حال ہی میں متنازعہ بیانات کے دوران فلسطینی فائی حملہ آوروں کو گرفتار کرے انہیں پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔
عبرانی "چینل 14 نے بار لیو کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ ہفتے بنی براک آپریشن میں مارے جانے والے ایک پولیس اہلکار کے گھر کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ فلسطینی گوریلا جنگجو ناقابل معافی ہیں، انہیں گرفتار کر کے قتل کیا جانا چاہیے۔
چینل نے کہا کہ وزیر نے اپنی پوزیشن 360 ڈگری تبدیل کی کیونکہ وزیر کو آباد کاروں پر حملوں کے بعد دائیں بازو کے حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
بار لیوجو پہلے چیف آف اسٹاف، سیرت متاکل کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں لیبر پارٹی کے رہنما ہیں۔ ان کے متنازعہ بیانات کے جواب میں قابض حکومت نے انہیں سیکیورٹی میں ہونے والی پیش رفت پراجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کیا۔







