کابل میں پل خشتی میں واقع جامع مسجد پر دستی بم سے حملہ، 6 افراد زخمی
شیعیت نیوز: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پل خشتی میں واقع ایک مسجد میں دستی بم کے دھماکے میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پل خشتی میں واقع جامع مسجد پرنماز ظہرین کے دوران دستی بم سے حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
کابل میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مسجد پر دستی بم اس وقت پھینکا گیا جب لوگ نماز ادا کررہے تھے بم پھٹنے کے نتیجے میں 6 نمازی زخمی ہوگئے ہیں۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ پل خستی مسجد کے اندر دستی بم پھینکا گیا اور جائے وقوع سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تاحال کسی گروپ نے اس دستی بم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال 22 جنوری کو بھی افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں اقلیتی برادری ہزارہ کے اکثریتی علاقے میں منی بس میں بم دھماکے سے 4 خواتین سمیت 7 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
خیال رہے کہ رواں سال 11 جنوری کو بھی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں بم دھماکے سے 9 بچے جاں بحق اور دیگر 4 زخمی ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی جارحیت جاری رہے گی، ہم تمام مقبوضہ علاقوں کو جلا دیں گے، مہر مظہر
دوسری جانب القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی نئی ویڈیو سامنے آ گئی۔ ایمن الظواہری کی 2020ء کے بعد سے یہ پہلی ویڈیو ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق القاعدہ نے ایمن الظواہری کے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لئے ویڈیو جاری کی جس میں ایمن الظواہری بھارتی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ لگانے والی لڑکی مسکان خان کی تعریف کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
القاعدہ کی جانب سے 5 اپریل کو ویڈیو "الشباب” تنظیم کے پلیٹ فارم سے جاری کی گئی جس کو انگریزی میں "بھارت کی عظیم خاتون” کا نام دیا گیا ہے۔
ویڈیو میں ایمن الظواہری نے اس واقعہ اور مسکان خان کے بارے میں بات کی ہے۔ انہوں نے حجاب پر پابندی عائد کرنے والے ملکوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ڈاکٹر ایمن الظواہری کئی سال تک اسامہ بن لادن کے نائب کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں 2020ء میں یہ اطلاعات منظرعام پر آئی تھیں کہ یا توہ بیمار ہیں یا پھر ان کا انتقال ہو گیا ہے۔
ایمن الظواہری نئی ویڈیو میں بظاہر صحت مند دکھائی دے رہے ہیں اور ان کی ویڈیو کو پچھلی ویڈیوز سے مختلف پس منظر میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔







