سعودی بادشاہت اب غیرملکیوں سے ماہانہ 400 ریال بٹوریگی
سعودی وزارت خزانہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر واضح کرتے ہوئے کہا کہ نجی اداروں کے غیر ملکی ملازمین سے وصول کی جانیوالی مذکورہ رقم سعودی عملے کی تقرری پر آنیوالے اخراجات میں صرف کی جائیگی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وصولی 2018 کے قومی بجٹ کے تحت ہوگی۔سعودی وزارتخزانہ کے مطابق ایسی نجی کمپنی جس میں غیر ملکی ملازموں کی تعداد سعودی ملازمین کی تعداد سے زیادہ ہوگی اس سے فی غیر ملکی ملازم ماہانہ 400ریال وصول کئے جائیں گے
جبکہ سعودی ملازمین سے غیر ملکی ملازمین کی تعداد کم ہونے کی صورت میں فی غیر ملکی کارکن ماہانہ 300ریال لئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق 2018 کے بعد یعنی 2019ء کے دوران ایسی کمپنی سے جس میں سعودی ملازمین کی تعداد غیر ملکیوں سے کم ہوگی فی غیر ملکی کارکن 600ریال اور ایسی کمپنی سے جس میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی ملازموں سے کم ہوگی فی غیر ملکی کارکن500ریال ماہانہ وصول کئے جائیں گے۔2020ء میں ایسی کمپنیوں سے جن میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی ملازمین سے زیادہ ہوگی فی غیر ملکی کارکن800ریال ماہانہ لئے جائیں گے اور اگر کمپنی میں غیر ملکی ملازمین کی تعداد سعودی کارکنان سے کم ہوگی تو ایسی حالت میں فی غیر ملکی کارکن 700ریال وصول کئے جائیں گے،واضح رہے کہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں ۔لاکھوں افراد نجی کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں ۔یہ خبر جونہی مقامی میڈیا پر آئی ان پر بجلی گر گئی کیونکہ ماہانہ700 روپے ریال فی ملازم وصولی بہت زیادہ ہے ۔فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاکستانیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ۔اکثریت نے پاکستان واپسی پر سوچ و بچار شروع کردیا ہے۔








