جنرل سلیمانی کا قتل ایران سعودی پیش رفت کو روکنے کے لیے تھا، سابق یونانی وزیر خزانہ

19 مارچ, 2026 13:19

شیعیت نیوز: Yanis Varoufakis نے کہا ہے کہ Qasem Soleimani کا قتل صرف ایک عسکری کارروائی نہیں تھا بلکہ اس نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ امن پیش رفت کو بھی روک دیا۔

ان کے مطابق جنرل قاسم سولیمانی ایک سفارتی مشن پر سعودی حکام سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے، جب انہیں Donald Trump کے احکامات پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ایک اہم موقع ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک کی منافقت بے نقاب، پھر کہتے ہیں ایران حملے کرتا ہے

وارفوکیس نے مزید کہا کہ یہ اقدام وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان فاصلہ برقرار رکھنا تھا، جبکہ Benjamin Netanyahu کسی بھی ممکنہ مفاہمت کے مخالف تھے۔

ان کے بقول اس کارروائی نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے خطے کو دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل دیا، جس کے اثرات اب بھی خلیجی معیشتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔

2:47 شام مارچ 19, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔