سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں پانچویں جمعہ کو بھی نماز کی ادائیگی نہ ہوسکی
وادی میں حریت لیڈران کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی اس دوران تمام کاروباری ادارے اور اسکول بند رہے ہڑتال کے سبب معمولات زندگی پوری طرح ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔
وادی میں حریت لیڈران کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی اس دوران تمام کاروباری ادارے اور اسکول بند رہے ہڑتال کے سبب معمولات زندگی پوری طرح ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب 27 اکتوبر 1947ء و بھارتی فوج نے سرینگر پر اترتے ہی کشمیریوں پر مظالم، قتل عام اور جبری قبضے کا آغاز کیا تھا۔ یہ سلسلہ تا ایں دم جاری و ساری ہے۔
حکام نےکل پانچویں جمعہ کو بھی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو مقفل رکھی۔ہڑتال اور فورسز کی قدغن کے بیچکل جامع مسجد کو سیل کردیا گیا تھا۔ جامع مسجد جانے والے تمام راستوں پر خار دار تاریں بچھادی گئی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام کو خدشہ تھا کہکل جامع مسجد کو کھلا چھوڑنے اور عوام کو یہاں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت دینے سے امن و قانون کی صورتحال خراب ہوسکتی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ آج مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر وادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال رہی، جبکہ حکام نے سرینگر کے حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لاکر عوام کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی جمعہ کو مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل پر ایک عام ہڑتا ل کے بیچ حکام نے وادی میں ٹرین سروس بھی معطل کردی۔
اطلاعات کے مطابق ریلوے حکام نے سیکورٹی ایجنسیوں کی ہدایت پر احتیاطی طور وادی میں ٹرین سروس معطل رکھی۔ادھر ریلوے ذرائع کے مطابق ا کہ وادی کشمیر میں ریل خدمات کی معطلی اور بحالی کے فیصلے سول و پولیس انتظامیہ کی ایڈوائزیز پر لئے جاتے ہیں۔
وادی میں رواں سال کے دوران ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر کم از کم دو درجن مرتبہ معطل کیا گیا۔
وادی میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو کم از کم چار مہینوں تک معطل رکھا گی۔