لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے پر سینیٹ میں شدید احتجاج، بریفنگ کے لئے وزیرداخلہ طلب
شیعیت نیوز: ارکان سینیٹ نے لاپتا افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے پر ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ سینیٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے بعد اب غیر ملکیوں کو بھی اٹھایا جانے لگا، سینیٹر فرحت اللہ بار نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے،لگتا ہے سول حکومت کی عملداری نہیں، خارجہ پالیسی کہیں اور سے بنتی ہے، ایسا ہوتا رہا تو مسائل کی سنگینی بڑھ جائیگی، عالمی برادری ہمارا کیسے احترام کریگی۔ جس پر چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس مسئلے پر بریفنگ دینے کیلئے پیر کو ایوان میں طلب کرلیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نےاجلاس میں وزراء کی عدم حاضری پر سخت بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان نے ایوان کو راج واڑہ سمجھ رکھا ہے، وزیروں اور مشیروں کی اتنی بڑی فوج ہے مگر ایوان میں نہیں آتے، اگر وزرا ایوان میں نہیں آ سکتے تو مستعفی ہوجائیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں لاپتا افراد کے مسئلے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو اس مسئلے پر پیر کو سینیٹ میں طلب کرتے ہوئے پالیسی بیان دینے کی ہدایت کر دی۔ اراکین سینیٹ نے لاپتا افراد کے مسئلے کے مستقل حل کیلئے قانون سازی نہ ہونے پر حکومتی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا ہے کہ پہلے اپنے شہریوں کو اٹھایا جاتا رہا اب دوسرے ممالک کے شہریوں کو اٹھانے کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر داخلہ سے جواب مانگ لیا۔ جمعہ کو اجلاس کی کارروائی کے دوران نقطہ اعتراض پر سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سی آئی اے کا بھی اعترافی بیان سامنے آیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف انہیں پاکستانیوں کو بیچتے رہے۔ سابق آمر نے ڈالرز لینے کا اعتراف اپنی کتاب میں بھی کیا۔ پہلے پاکستانیوں کو اٹھا کر بیچا جاتا تھا اب دوسرے ممالک کے شہریوں کو اٹھا کر اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے جرات مندانہ بیان دیا ہمیں امید تھی کہ خارجہ پالیسی پر بھی سول حکومت کی عملداری ہو گی مگر لگتا ہے کہ پالیسی حکومت نہیں بناتی۔ خارجہ پالیسی کہیں اور سے بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا کہ خارجہ پالیسی کوئی اور ترتیب دیگا تو مسائل کی سنگینی بڑھ جائے گی۔ عالمی برادری ہمارا کیسے احترام کر سکے گی۔ ہم اپنے لئے مشکلات خود کھڑی کرتے ہیں اور اب ترک باشندوں جنہیں عدالتی تحفظ حاصل ہے کو ترکی کے حوالے کر رہے ہیں جبکہ یہ ترک باشندے نہ صرف پاکستانی عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کر چکے ہیں بلکہ ان کے پاس اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کا کارڈ بھی موجود ہے۔
چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ہدایت کی کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے سپرد کر دیا جائے اور پیر کو وزیر داخلہ سینیٹ میں آ کر اس کا جواب دیں۔علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے ایوان بالا کے اجلاس میں وزرا ء کی عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور پوچھا توانائی، مذہبی امور اور ہائوسنگ کے وزرا ء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا وزیروں اور مشیروں کی اتنی بڑی فوج ہے مگر ایوان میں نہیں آتے، اگر وزرا ایوان میں نہیں آ سکتے تو مستعفی ہوجائیں، وزیراعظم ایوان میں آ کر جواب دے سکتے ہیں تو وزرا کیوں نہیں؟ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ وزیر برائے کیڈ سے متعلق کہا گیا کہ انکی طبیعت خراب ہے، ایوان میں نہیں آ سکتے، جس کی وجہ سے باعث وزارت برائے کیڈ سے متعلق کئے سوالات موخر کرنے پڑے، اپنے چیمبر میں جا کر ٹی وی پر دیکھا تو اسی وزیر کی بریکنگ نیوز چل رہی تھی، بتایا جاتا ہے وزیر کی طبیعت خراب ہے اور وہی وزیر کہیں جلسے سے خطاب کر رہا ہوتا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ وزیر توانائی کراچی میں کیا کر رہے ہیں؟ یہاں کوئی راج واڑا چل رہا ہے؟، کوئی کراچی ہے تو کوئی بنوں میں؟ وزرا کا یہ رویہ قابل برداشت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزرا اور سیکرٹریز تک پیغام پہنچا دیا جائے اگر رویہ یہی رہا تواحکامات جاری کر کے سینیٹ کے قاعدہ 13 کے تحت وزرا کے ایوان میں آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اجلاس میں سینیٹر حافظ حمد اللہ کی درخواست پر بلوچستان کے قلعہ پشین میں اے این پی کے قافلے پر ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق افراد کے لئے دعا کی گئی۔ فاضل سینیٹر نے دعا کروائی۔ چیئرمین سینیٹ نے سندھ میں ایدھی مراکز پر قبضوں کی اطلاعات کا بھی نوٹس لیا ہے۔ یہ معاملہ بھی سینیٹر حافظ حمد اللہ نے اٹھایا اور کہا کہ فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سندھ کے علاقوں میں ایدھی مراکز پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔ قبضہ مافیا یہ مرکز بند کرنا چاہتی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ خود وزیراعلیٰ سندھ سے بات کرینگے۔
سینیٹر تاج حیدر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ اس کا نوٹس لے چکے ہیں۔ سینیٹر عتیق شیخ نے کراچی سے امریکا کے لئے براہ راست پی آئی اے کی پروازوں میں کمی کا معاملہ اٹھایا۔ وزارت سے اس پر بھی جواب مانگ لیا گیا ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے ایل این جی معاہدے کے حوالے سے نقطہ اعتراض پر بات کی اور کہا کہ قیمت پر تضاد کا ریکارڈ موجود ہے اور یہ معاملہ نجی کمپنیوں کے درمیان طے ہوا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیراعظم گذشتہ روز دوٹوک الفاظ میں واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاہدہ دو ریاستوں کے درمیان ہوا اور متعلقہ گیس کمپنیاں ریاستی کمپنیاں ہیں۔
سینیٹر عثمان کاکڑ نے بلوچستان میں لیویز کی خالی آسامیاں پر نہ ہونے سینیٹر ساجد طوری اور سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے ایران جانے والے زائرین کو پاک ایران سرحد پر سکیورٹی اداروں کی جانب سے تنگ اور ہراساں کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ دونوں سینیٹرز کا موقف ہے کہ زائرین کو ایران جانے اور آنے کے مواقع پر سرحد پر ایک ایک ہفتے روک لیا جاتا ہے۔ بچے اور خواتین خوراک نہ ہونے کی وجہ سے مشکل حالات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ کہیں شنوائی نہیں ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان کو معاملے کا نوٹس لینے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ وہ متعلقہ سینیٹر سے ملاقات کر کے اس مسئلے کا حل نکالیں۔








