سلطان پور میں چہلمِ شہید رہبر پر عظیم اجتماع، اتحاد و یکجہتی پر زور

21 اپریل, 2026 10:21

شیعیت نیوز : سلطان پور میں شہیدِ رہبر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کے چہلم کے موقع پر منعقدہ عظیم الشان مجلس سے خطاب کرتے ہوئے نمائندے ولی فقیہ ہند حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے کہا کہ ہندوستان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان انسانیت، محبت اور یکجہتی کی ایک بے مثال مثال ہے، جس نے ملک کو دنیا میں منفرد شناخت عطا کی ہے۔

سلطان پور / شہیدِ رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے چہلم کے موقع پر “چہلم شہید امت” کے عنوان سے اتر پردیش کے علاقے امہٹ سلطان پور میں ایک عظیم الشان مجلسِ عزا و یادگاری اجتماع منعقد ہوا، جس میں ضلع سلطان پور اور دیگر اضلاع سے آئے ہوئے علماء، مومنین، دانشور شخصیات اور عاشقانِ اہل بیتؑ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مومنینِ امہاٹ کی جانب سے یہ روح پرور مجلس 18 اپریل 2026 بروز ہفتہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک حسینیہ نو تعمیر امہٹ میں منعقد کی گئی۔ اس اجتماع کا مقصد مسلمانوں کے عالمی دینی رہنما رہبر شہید سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی یاد تازہ کرنا اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کا اہتمام تھا۔ اس تاریخی مجلس سے مولانا سبطین عباس رضوی، مولانا غضنفر عباس طوسی، مولانا قمر حسنین اور مہمان خصوصی نمائندہ ولی فقیہ ہند حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خطاب فرمایا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے زخمیوں کی مدد کے لیے جامعہ عروۃُالوثقی کی جانب سے اعلیٰ معیار کی طبی امداد کی پہلی کھیپ روانہ

اپنے جامع اور بصیرت افروز خطاب میں حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے اندر انسانیت، اخوت، رواداری اور یکجہتی کا جو جذبہ پایا جاتا ہے، اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے ہندوستان کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شہید اپنے پورے خاندان کی قربانی پیش کر کے پوری انسانیت کو بقا عطا کرتا ہے اور اپنی آخرت سنوار لیتا ہے، اسی لیے شہداء کا نام ہمیشہ زندہ اور امر رہتا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے تحریکِ عاشورا اور حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کے ابدی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں تاریخ کے دھارے کو بدل دیتی ہیں اور امت کو بیداری، شعور اور حق شناسی عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید رہبر کی زندگی کا ایک عظیم مقصد اتحادِ بین المسلمین تھا، اور ان کی شہادت نے شیعہ و سنی اتحاد کو مزید مستحکم اور مضبوط کیا ہے۔ آج امت مسلمہ کے مختلف طبقات کے درمیان اخوت، محبت اور یکجہتی کا ایک نیا باب روشن ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر نے قیادت کا ایک ایسا عملی نمونہ پیش کیا جو سادگی، اخلاص اور عوامی زندگی سے عبارت ہے؛ ایسی قیادت جو دنیاوی تعیشات سے دور رہ کر امت کے درمیان رہتی ہے اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے۔

اپنے خطاب کے ایک اہم حصے میں انہوں نے عالمی استکبار خصوصاً امریکہ کے مصنوعی دبدبے اور رعب کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اب یہ جان چکی ہے کہ ظلم و استکبار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا، اور شہداء کا خون ہمیشہ حق و عدالت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے رہبرِ انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ہمارے غم میں شریک ہو کر جس حوصلے، محبت اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ خداوندِ عالم ہندوستان کے عوام کو ترقی، خوشحالی اور امن عطا فرمائے اور ان کے اندر انسانیت، محبت اور اتحاد کا یہ عظیم جذبہ ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔

11:55 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔