امت اخبار کا ایک اور جھوٹ، خوارج کے مظالم شامی فوج پر ڈال دیئے
شیعیت نیوز: پاکستا ن میں تکفیریوں اور جہادیوں کی آواز امت اخبار کی جانب سے حلب آزادی کو آڑ بنا کر مسلسل جھوٹ پر مبنی پروپگنڈا کرکے شیعہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جارہا جارہا، لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں نے افغان خفیہ ایجنسی کے پے رول پر چلنے والے اخبار کی شیعہ مسلمانوں کے میڈیا ٹرائل پر خاموشی اختیا ر کررکھی ہے۔
مورخہ 20 دسمبر 2016 کے اخبار کے پہلے صفحہ پر امت اخبار نے شامی فورسز کے ساتھ ساتھ شیعہ مسلمانوں پر الزام لگایا کہ وہ حلب میں سنی مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حلب میں جنگ بندی ہوگئی ہےاور اب وہاں سے عوامی انخلاء کیا جارہاہے جس میں دہشتگرد بھی شامل ہیں جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
لیکن امت اخبار خبروں کو غلط انداز میں بیان کرکے شیعہ مسلمانوں کے خلاف سادہ لو مسلمانوں کے جذبات ابھار رہا ہے، اس ضمن میں جھوٹ کی بھی حد پار کردی گئی ہے اور ماضی میں جو مظالم اُ س وقت کے داعشی خوارج نے کیے تھے انکو شامی و شیعہ مزاحمتی تنظیموں کے کھاتے میں ڈال کر غلط بیانی کی جارہی ہے، اخبار میں لکھا گیا ہے کہ حلب میںشیعہ ملیشیا حاملہ عورت کے پیٹ کو چاک کیا گیا جس سے بچہ مر گیا، جبکہ یہ مظالم خوارج کی تاریخی میں ملتے ہیں جو وہ شیعیان علی علیہ سلام کے ساتھ روا رکھتے تھے۔
دوسری جانب اسطرح کی خبروں کی ناتو کسی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوسکی ہے اور نا ہی وہابیوں کے ہیڈمیڈیا چینل العربیہ پر پائی جارہی ہیں، تاہم امت اخبار کہاں سے ان خبروں کا ذریعہ لے یا ہے یا من گھڑک اور بے بنیاد خبریں کیوں نشر کررہا ہے؟ اس کا سمجھنا مشکل نہیں بلکہ واضح ہے کہ امت اخبار کا ایڈیٹر رفیق افغان(این ڈی ایس) افغان انٹیلیجنس کی ایماء پر ملک میں نفرت و فرقہ واریت کو فروغ دیکر شام جیسے حالات بنانا کی کوشیش کررہا ہے تاکہ ملک ِپاکستان کو غیر مستحکم کیا جاسکے۔
واضح رہے کہ امت اخبار کا ایڈیٹر رفیق افغان ،افغان خفیہ ایجنسی کا آلہ کار ہے ، مختلف رپورٹس کے مطابق امت اخبار کے دفتر سے ہی لشکر جھنگوی کی جانب سے دہشتگرد کاروائیوں کی تصدیقی پریس ریلیز میڈیا ہاوسز کو جاری کی جاتی رہی ہیں۔لہذا حکومت ملک میں بدامنی اور نفرت پھیلانے والے اس اخبار کے خلاف فوری کاروائی کرے۔