پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے سے گریز کرنا چاہیے، اسکاٹ رِٹر کی وارننگ

13 مارچ, 2026 10:42

شیعیت نیوز : مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سابق امریکی میرین کور انٹیلیجنس افسر، اقوامِ متحدہ کے سابق اسلحہ معائنہ کار (UN Weapons Inspector) اور فوجی و جیو پولیٹیکل تجزیہ کار اسکاٹ رِٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کو موجودہ صورتحال میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان میں شیعہ آبادی بھی بڑی تعداد میں ہے اور مذہبی رجحانات رکھنے والے افراد کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اسرائیل کو مضبوط بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس سے تحفظ کے لیے تھا۔ اگر پاکستان اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو یہ پاکستانی حکومت کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہو کر اس ملک کے خلاف جاتا ہے جس نے اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی ہے تو یہ خودکشی کے مترادف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز میں بھارت جانے والے تجارتی جہاز پر حملہ، ایران کا ممکنہ سخت پیغام قرار

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکاٹ رِٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک نمایاں حصہ شیعہ ہے جو تقریباً 10 سے 15 فیصد کے درمیان بتایا جاتا ہے، اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں امریکی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو پاکستانی حکومت کے لیے حالات مزید مشکل ہو سکتے ہیں، جبکہ فوجی قیادت کے اندر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کر سکتی ہے اور ملک کو شدید سیاسی و سکیورٹی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے خطے کے دیگر ممالک خصوصاً بھارت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اسکاٹ رِٹر کے مطابق خلیجی خطے میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ممکنہ میزائل خطرے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی ہے جس میں شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر پناہ لیں اور کھڑکیوں اور دروازوں سے دور رہیں۔ ان کے مطابق دبئی جیسے شہروں میں بڑی تعداد میں یورپی اور مغربی شہری موجود ہیں جو جنگی حالات کے عادی نہیں ہیں، اس لیے یہ صورتحال خلیجی ممالک کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی دفاعی تجزیہ کار نے ایران کی جنگی صلاحیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ دو دہائیوں سے ممکنہ جنگ کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق 2005 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کی دھمکی کے بعد ایران نے اپنے ملک کو بارہ خود مختار فوجی اضلاع میں تقسیم کر دیا تھا اور تب سے مسلسل دفاعی منصوبہ بندی جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اکیس برسوں کے دوران ایران نے میزائل پروگرام کو مضبوط کیا، جنگی صلاحیتیں بڑھائیں اور مختلف ممکنہ خطرات کے لیے منصوبہ بندی کی۔ ان کے مطابق ایران کو امریکہ اور اسرائیل دونوں کی عسکری صلاحیتوں کا اندازہ ہے اور وہ طویل عرصے سے ان کی حکمت عملی کا مطالعہ کر رہا ہے۔

اسکاٹ رِٹر نے مزید کہا کہ صرف عمارتیں تباہ کرنے سے ایران کی اصل جنگی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایسے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جہاں عمارتیں تباہ ہونے کے باوجود بنیادی نظام دوبارہ بحال کر لیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای وہ اہم شخصیت تھے جن کی پالیسیوں کے باعث ایران نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ نہیں کیا۔

11:54 صبح مارچ 13, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔