اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مجرم ہے ،اس کو سزا ملنی چاہیے: مولانا کلب جواد نقوی

14 مارچ, 2026 12:18

شیعیت نیوز : لکھنؤ میں ماہِ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یومِ قدس کے موقع پر مجلس علمائے ہند کی جانب سے فلسطین کی آزادی، قبلۂ اول کی بازیابی، غزہ، لبنان اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسرائیل و امریکا کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت مولانا کلب جواد نقوی نے کی اور یہ احتجاج آصفی مسجد سے شروع ہو کر بڑے امام باڑے کے چبوترے تک پہنچا جہاں مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس دوران شرکاء نے فلسطین کی آزادی اور قبلۂ اول کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی مظلومانہ شہادت کو یاد کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے اور ایران کے نو منتخب رہبر انقلاب آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کیا۔ مظاہرے کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر نذرِ آتش کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : امتِ مسلمہ کا اتحاد صہیونی سازشوں کو ناکام بنا دے گا، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ اور فلسطین کے عوام پر جتنا ظلم کیا ہے اس کی مثال اس صدی میں نہیں ملتی۔ ان کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا مجرم ہے مگر افسوس کہ دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا نے ہمیشہ دہشت گردی کو فروغ دیا ہے اور ایران میں ایک اسکول پر حملے میں سینکڑوں بچیوں کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی حقوق کے دعوے کرنے والی طاقتیں دراصل فریب دے رہی ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بھی معصوم بچیوں کے اسکول پر حملے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی رہبرِ انقلاب اسلامی کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔ مولانا نے کہا کہ حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکا اور اسرائیل کبھی کسی کے سچے دوست نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ انسانیت کے مجرم ہیں۔

مولانا سعید الحسن نقوی نے کہا کہ روح اللہ خمینی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اعلان کیا تھا کہ ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو یومِ قدس کے طور پر منایا جائے تاکہ فلسطین کی آزادی اور قبلۂ اول کی بازیابی کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام نے ہمیشہ میدان میں رہ کر ظلم کا مقابلہ کیا اور آج ظالم قوتیں بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

مولانا علی عباس خان نے کہا کہ شہید کی طاقت شہادت کے بعد مزید بڑھ جاتی ہے اور رہبرِ انقلاب کی شہادت نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء سے سبق لینا چاہیے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف کس طرح استقامت دکھائی۔

مولانا مشاہد عالم رضوی نے کہا کہ یومِ قدس دراصل مظلوموں اور کمزوروں کا دن ہے اور آج کا دن غزہ کے معصوم بچوں اور بہادر ماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔ ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے مغربی طاقتوں کے چہرے سے امن کا نقاب اتار دیا ہے۔

مولانا فیض عباس مشہدی نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کے بعد دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک ظالموں کے ساتھ اور دوسرا مظلوموں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل معصوم بچوں کے قاتل ہیں اور ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ استعماری طاقتوں کی غلامی قبول نہیں کرے گا۔

ڈاکٹر حیدر مہدی نے کہا کہ شہید کبھی مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور دنیا شہداء کو یاد رکھتی ہے، ظالموں کو نہیں۔

احتجاج میں مولانا سید کلب جواد نقوی, مولانا علی عباس خان, مولانا سعید الحسن نقوی, مولانا شاہ نواز حیدر, مولانا نظر عباس, مولانا فیض عباس مشہدی, مولانا ابوالفضل عابدی, مولانا وصی عابدی, مولانا مشاہد عالم رضوی, مولانا فیروز حسین, مولانا شباہت حسین, مولانا زوار حسین, ڈاکٹر حیدر مہدی, مولانا منظر عباس شفیعی, مولانا تہذیب الحسن اور مولانا حسنین باقری سمیت دیگر علما اور مومنین نے شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض عادل فراز نقوی نے انجام دیے۔

مظاہرے میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے گئے جبکہ ایران کی حمایت اور رہبرِ انقلاب سید مجتبیٰ خامنہ ای کے حق میں بھی نعرے بلند کیے گئے۔ اس موقع پر مولانا کلب جواد نقوی نے اعلان کیا کہ 5 اپریل کو شہید آیت اللہ خامنہ ای کے چہلم کی مجلس بڑے امام باڑے میں منعقد کی جائے گی جس میں لکھنؤ کے مومنین، ادارے اور علماء شرکت کریں گے۔

2:10 شام مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔