راولپنڈی :پنجاب حکومت کی 25کڑوڑ کی ا مداد سے فتنہ گرمدرسہ تعلیم القرآن کی دوبارہ تعمیر
شیعیت نیوز: راولپنڈی میں 2013 کے عاشورہ کے روز جلوس عزا پر منعظم حملہ کے لئے استعمال ہونے والی مسجد ضراراور مدرسہ تعلیم قرآن کا محرم الحرام سے دو روز قبل باقاعدہ افتتاح کیا جارہا ہے جسمیں کالعدم جماعتوں کے سرغناوں کو دعوت دی گئی ہے۔
مدرسہ تعلیم قرآن روالپنڈی کے مرکزی جلوسِ عاشورہ کے راستہ میں واقع ہےجہاں سے 15 نومبر 2013 کو عاشورہ کے جلوس پر پتھراو کیا گیا بعد ازہنگامے میں شرپسندوںکی جانب سے 6امام بارگاہوں سمیت مدرسہ تعلیم قرآن کو آگ لگادی گئی تھی، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیاتھا کہ مدرسہ کے اندر موجود دہشتگردوں نےسازش کے تحت مسجد و مدرسہ کو نذرآتش کیا تاکہ خود کو مظلوم ثابت کیا جاسکے۔
ڈان نیوز کے مطابق محرم الحرام سے دو روز قبل یعنی 29 ستمبر کو اس مدرسہ کا افتتا ح کیا جارہا ہے جسکی دوبارہ تعمیر کے لئے حکومت نے240 ملین روپے کا فنڈ جاری کیا تھا، بتایا جارہا ہے کہ اس تقریب میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق،کالعدم (لشکر طیبہ) جماعت الدعوۃ کے سرغنہ حافظ سعید اور کالعدم دہشتگرد اہلسنت والجماعت (سپاہ صحابہ) کا سرغنہ احمد لدھیانوی مہمان خصوصی ہیں۔
واضح رہے کہ سانحہ عاشورہ 2013 کوکالعدم اہلسنت والحماعت کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تھے، رپورٹ کے مطابق 9 محرم الحرام کو کالعدم اہلسنت و الجماعت کے آفیشل ٹوئیٹر اکاونٹ سے 10 محرم الحرام کو مدرسہ تعلیم القرآن پہنچے کی ہدایت دی گئیں تھیں۔

مقامی انتظامیہ انتظامیہ کے مطابق مدرسہ کی انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ تقریب میں تقریر کے دورانہ فرقہ وارنہ خطابات نہیں کیئے جائیں گے جبکہ کالعدم مذہبی جماعتوں کے رہنماوں کی شرکت پر بھی پابندی ہوگی۔
دھیاں رہے کہ اس تقریب میں کالعدم اہلسنت و الجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو مدعو ہیں، کیا مقامی انتظامیہ اس با ت سے بے خبر ہے، یا وہ جان بوجھ پر غفلت برت رہی ہے۔
علاوہ ازین پنڈی کے شہریوں کی جانب سے بھی محرم سے قبل متنازعہ مدرسہ کی افتتاحی تقرب پر تشویش کا اظہار کیا ہے، انکا کہنا ہے کہ یہ شہر کے حالات ایک با ر پھر خراب کرنے کے معترادف ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان افواج سمیت معصوم شہریوں پر دہشتگردانہ حملہ آور وں کا سرغنہ طالبان و جماعت احرار کا امیر مولوی فضل اللہ بھی مدرسہ تعلیم القرآن سے تعلیم حاصل کرچکا ہے جیسے پنجاب حکومت نے 25 کڑوڑ کی امداد دی ہے۔









