افغانستان میں جرائم پیشہ عناصر کی مدد پاکستان سے ہورہی ہے، افغان چیف ایگزیکٹیو کا الزام
بھارت کے بعد افغانستان کی جانب سے بھی پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں جرائم کا ارتکاب کرنے والے عناصر کو پاکستان سے مالی امداد اور اسلحہ مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات کئے، مگر دوسری جانب سے ہمیں توقع کے مطابق تعاون نہیں ملا، طالبان کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوئے ہیں۔ وزراء کی کونسل سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ملا عمر کی موت کو دو سال تک چھپایا گیا اور پھر پاکستان میں طالبان قیادت کے کھلے اجلاس منعقد ہوئے، تاکہ افغانستان میں تباہی کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے عوام کے شکوک و شبہات کے باوجود ہم نے تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے لیکن بدقسمتی سے ہمسایہ ملک نے گزشتہ دس ماہ کے دوران انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہمارے ساتھ ایسا تعاون نہیں کیا، جس کی ہمیں توقع تھی۔ اگرچہ اچھے بیانات جاری کئے جاتے رہے، لیکن افغان عوام کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو مالی امداد اور ہتھیار بھی ملتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی اتحادی حکومت کے قیام کے دس ماہ کے دوران طالبان کمزور نہیں ہوئے بلکہ مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ طالبان کی عسکری سرگرمیوں کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے، بلکہ انہیں ہتھیار اور مالی امداد مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے سانحہ پشاور کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی، ہم نے اس حملے کی مذمت کی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف مدد کی۔ افغان چیف ایگزیکٹیو نے کہا کہ پاکستان یہ کہتا ہے کہ افغانستان کے دشمن، پاکستان کے دشمن ہیں، تو پاکستان کا دشمن کس طرح کا ہے؟ دہشت گرد ہمارے لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر پاکستان میں آزاد گھومتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے بھی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی گئی ہے۔








