پرامن جوہری تنصیبات پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، پاکستان سمیت 12 ممالک

24 اکتوبر, 2026 15:34

شیعیت نیوز : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران، چین، روس اور پاکستان سمیت 12 ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر کسی بھی حملے یا حملے کی دھمکی کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ اعلامیہ بیلاروس، برکینا فاسو، چین، کیوبا، اریٹیریا، ایران، نکاراگوا، نائجر، پاکستان، روس، تاجکستان اور زمبابوے نے جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کے 81ویں اجلاس میں جاری کیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر و ناظم الامور غلام حسین درزی نے آٹھ نکات پر مشتمل یہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی نظام کے تحت پرامن مقاصد کے لیے مختص جوہری تنصیبات کو کسی بھی حالت میں حملے یا حملے کی دھمکی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، جبکہ تمام ممالک کے پرامن مقاصد کے لیے جوہری تحقیق، پیداوار اور استعمال کے ناقابل تنسیخ حق کی توثیق کی گئی۔

اعلامیے میں 1981 میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 487 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جوہری تنصیبات پر حملہ یا اس کی دھمکی اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے آئین کی خلاف ورزی ہے اور یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے مقاصد سے بھی متصادم ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایسے حملے جوہری تحفظ و سلامتی اور ایجنسی کے حفاظتی نظام کی ساکھ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : زنگ آلود امریکی جنگی جہاز خلیج فارس میں داخل نہیں ہو سکیں گے، جنرل عبداللہی

اس سے قبل جنرل اسمبلی سے خطاب میں غلام حسین درزی نے کہا کہ کوئی ملک یکطرفہ طور پر این پی ٹی کو دوبارہ نہیں لکھ سکتا اور معاہدے کی شق چار تمام رکن ممالک کو مکمل جوہری ایندھن سائیکل سمیت پرامن جوہری توانائی کا حق دیتی ہے۔

غلام حسین درزی نے کہا کہ امریکہ اور جوہری ہتھیاروں سے لیس غاصب اسرائیل نے 2025 اور 2026 میں ایران کے خلاف دو جارحانہ جنگیں مسلط کیں اور ایجنسی کی نگرانی میں موجود پرامن جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں رہبر شہید سمیت ہزاروں افراد شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز، نہ ڈائریکٹر جنرل اور نہ ہی سلامتی کونسل نے ان حملوں کی مذمت کی، بلکہ دباؤ متاثرہ ملک پر ڈالا جا رہا ہے جبکہ جارح احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔

4:28 شام اکتوبر 24, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔