پاکستان کے عوام کو بتایا جائے کہ شہید قائد کا قاتل کون ہے، علامہ ناصر عباس

09 اگست, 2015 00:00

شیعت نیوز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے بیداری امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اہل بیت (ع) نے اپنے خون سے مزاحمت کے شجر کی آبیاری کی، یہ ممکن نہیں کہ ظلم ہو اور مزاحمت نہ ہو۔ امریکہ و اسرائیل کی فرعونی حکومتوں کے مسلط ہونے پر بھی مزاحمت کا پرچم بلند ہوا، اسی طرح پاکستان میں مزاحمت کا پرچم شہید حسینی نے اٹھایا، اس شہید قائد کا تعلق حسین کی نسل سے تھا، وہ بہادر، شجاع، حکیم، دانا اور مدبر تھا۔ پاکستان کی سرزمین پر شہید قائد مزاحمت کا پرچم اٹھائے فرات عصر پر جا پہنچا، وہ صرف شیعوں کے حقوق کی جنگ نہیں لڑ رہا تھا بلکہ ہر مظلوم کی جنگ لڑ رہا تھا۔ وہ عدل اور قانون کی حکمرانی چاہتا تھا۔ پاکستان میں شیعہ سنی وحدت کا دور دورہ ہو۔ جو مشکلات شہید کے زمانہ میں تھیں وہ آج بھی موجود ہیں، حکمران چاہتے ہیں عوام تقسیم ہوں، ٹکڑوں میں بٹے رہیں اور حکمران قانون کو روندتے رہیں۔ ظالم استعمار شہید کو جب خرید نہ سکے تو سید الشہداء کے بہادر بیٹے کو شہید کرا دیا گیا۔
پاکستان کے عوام کو بتایا جائے کہ شہید قائد کا قاتل کون ہے، یہ ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ تحقیقات کے نتائج کو سامنے لایا جائے۔ دشمن نے سمجھ رکھا تھا کہ مزاحمت ختم ہو جائے گی، اور اس وطن میں مزاحمت کا نام نشان نہیں رہے گا، لیکن شہید کے فرزندوں نے مزاحمت کا پرچم پاکستان کی کربلا میں اٹھایا جسے خون کے آخری قطرے تک بلند رکھا جائے گا۔ ہماری نسل کشی ہوئی، ہمٰیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، شیعہ سنی کو مارا گیا، آج مجلس وحدت مسلمین ایک حقیقت ہے، جس کا انکار ممکن نہیں، مکتب اہل بیت کے پیروکاروں کی سب سے بڑی جماعت کا نام ایم ڈبلیو ایم تک ہے۔ اس کی گونج وائٹ ہاوس تک پہنچ گئی ہے۔ آج کے پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لئے

بلوچستان کی سرزمین پر بلوچوں کو آج تک ان کے حقوق نہیں دیئے جارہے، وہاں غربت افلاس کا دور دورہ ہے۔ خزانوں سے مالامال سرزمین کے باسیوں کو ان کے حقوق ملنے چاہیں۔ وہاں کے لوگوں کے بچوں کو پاکستان کے کیڈٹ کالجوں میں پڑھایا جائے تاکہ وہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر آ سکیں۔ وہاں پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی ہونی چاہیے۔ بلوچستان میں ہمارے ہزارہ محاصرے میں ہیں، غزہ کا عالم ہے۔ شناختی کارڈ بنوانے جائیں مار دیا جاتا ہے، یونیورسٹی جائیں انہیں مار دیا جاتا ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں یہ دفاتر ان کے علاقے میں بنا دیا جائے، یا ان چند گنے چنے علاقوں کی سیکیورٹی مضبوط کی جائے۔ نیٹو فورسز اور انڈین فورسز کو دعوت دینا وطن کے ساتھ غداری ہے۔ ہماری غیرت گوارہ نہیں کرتی پاک فوج کے ہوتے ہوئے غیروں سے مدد طلب کی جائے۔

سندھ کے اندر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے، شکار پور میں شہدا کے بچے آج بھی انصاف مانگ رہے ہیں۔ نواز شریف صاحب پنجاب ہمارے لئے کربلا بنا ہوا ہے، آپ کی حکومت دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ مقتولوں اور مجبوروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، قوانین دہشت کے خلاف بنائے گائے تھے، لیکن ہمارے لوگوں کو شیڈول فور میں ڈال کر مظلومین کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے، پنجاب کے اندر ظلم و استبداد بند ہونا چاہیے، ہزاروں سنی اور شیعہ کو درود و سلام پڑھنے کے جرم یں جیلوں میں ڈالا گیا۔ ہم اس ظلم کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ ظالم اور مظلوم کو ایک لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ آج تک کسی سنی و شیعہ نے ریاستی ادارہ پر حملہ نہیں کیا، آئی ایس آئی کے دفتر کے گرد رکاوٹیں کھڑی گئیں ہیں، آپ کو کس خطرہ ہے، شیعہ و سنی آُپ کے دشمن نہیں،

جی بی کے عوام نے علاقہ اپنے زور بازو سے آزاد کرایا لیکن آج تک انہیں حقوق نہیں دیے گئے، نواز حکومت آنے کے بعد جی بی میںن عوام کے خلاف غداری کے مقدمات درج کئے گئے، قانون کا غلط استعمال کیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس خطہ کو حقوق ملنے چاہیں، جی بی کو صوبہ بنایا جائے، پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے۔ نینشلسٹ لوگوں کو گرفتار کیا گیا، کرنل مرزا حسن کے فرزند کو جیل بند کیا گیا، یہ قابل برداشت نہیں ہے، ہیرو کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا، جس ہیرو نے ہزاروں کلومٰٹر علاقہ آزاد کرایا۔ اسی طرح پارا چنار کا پہلے محاصرہ کیا گیا اور آج ان کی زمینوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ اسی طرح وحدت کی بات کرنے والا خطبا کے خلاف پرچے کاٹے جارہے ہیں، علامہ گلفام ہاشمی پر پابندی لگائی گئی جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین ایک بھی سنی و شیعہ ایسا نہیں جو ریاستی اداروں پر حملہ کرے، اگر ایسا ہوا تو شیعہ سنی خود مل کر اسے پھانسی دیں گے۔ آج امریکہ و اسرائیل اور آل سعود پریشان ہیں اور شکست کھا رہے ہیں۔

5:12 صبح اکتوبر 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔