ولایت فقیہ محض سیاسی نظریہ نہیں بلکہ تربیت کا جامع نظام ہے، آیت اللہ باقر مقدسی

27 اکتوبر, 2026 11:32

شیعیت نیوز : حوزہ علمیہ قم کے استاد آیت اللہ باقر مقدسی نے مدرسہ علوم اسلامی قم میں "رہبر شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے فقہی افکار میں ولایت فقیہ کے فقہی مبانی اور تربیتی کردار” کے عنوان سے منعقدہ علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ولایت فقیہ محض ایک تجریدی فقہی یا سیاسی نظریہ نہیں، بلکہ عصر غیبت میں اسلامی معاشرے کی قیادت، احکام الٰہی کے نفاذ اور دینی، علمی، ثقافتی اور سماجی تربیت سے جڑا ہوا ایک جامع نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے ولایت فقیہ کے نظریے کو اسلامی جمہوریہ کے قیام کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ رہبر شہید نے علمی ترقی، سماجی عدل، باصلاحیت افراد کی تربیت، سیاسی خودمختاری اور تسلط پسند قوتوں کے مقابلے میں استقامت پر توجہ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ولایت مطلقہ فقیہ کا مطلب شریعت اور قانون سے آزاد اختیار نہیں، بلکہ اسلامی حکومت کے انتظام کے لیے ضروری اختیارات کی وسعت ہے۔

آیت اللہ باقر مقدسی نے کہا کہ عصر حاضر میں میڈیا اور ڈیجیٹل ماحول انسانی فکر پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، اس لیے جہاد تبیین کے تحت مستند اور مدلل وضاحت اور غلط معلومات کی شناخت ضروری ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل خواندگی، جعلی مواد کی پہچان اور ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال کی تعلیم دینا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مدرسہ الولایہ قم میں مصنوعی ذہانت کے شارٹ کورس کا تیسرا سیشن، طلاب کی کثیر تعداد شریک

انہوں نے اسلامی وحدت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید کے افکار میں مسلمانوں کی وحدت کو اہم مقام حاصل رہا ہے اور اس سلسلے میں اہل سنت کے مقدسات کی توہین کی حرمت سے متعلق ان کا فتویٰ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ مسئلہ فلسطین اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت بھی ان کے افکار کا نمایاں موضوع رہی ہے۔

نشست کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کے فقہی اور تربیتی افکار پر مستند تحقیق اور علمی مکالمے کے ذریعے باشعور، بااخلاق اور ذمہ دار افراد کی تربیت کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ نشست میں طلاب نے بھرپور شرکت کی، جبکہ ڈاکٹر مولانا محمد لطیف مطہری نشست کے علمی سیکرٹری تھے۔

12:30 شام اکتوبر 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔