سات روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل ممکن ہے، عباس عراقچی
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہونے کے باوجود سفارت کاری کو کامیابی کا موقع دینا چاہتا ہے اور ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرنے والے ممالک سے قریبی اور مسلسل رابطے میں ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ ہم ان تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ثالثوں سے رابطے میں ہیں جن کے ذریعے ہمارے سات روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا انتظام جنگ سے پہلے جیسا کبھی نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ
واضح رہے کہ قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچائے گئے اس منصوبے کے تحت امریکہ پانچ دن کے اندر ایران کے خلاف جارحیت ختم کرے گا، بحری ناکہ بندی اٹھائے گا، ایرانی تیل کی برآمد پر پابندیاں نرم کرے گا اور منجمد اثاثے جاری کرے گا، جس کے بعد ایران چھٹے دن آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دے گا اور ساتویں دن حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
عراقچی نے ایک اور پیغام میں خبردار کیا کہ غاصب اسرائیل کی شہ پر خلیج فارس میں کسی بھی نئی فوجی جارحیت کے عالمی توانائی منڈیوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، اور یہ خدشہ گیس فراہم کرنے والے اور خریدار دونوں ممالک کے لیے بڑی تشویش کا باعث ہے۔






