نواز شریف نے اپنی حکومت بچانے کے لیے تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو سڑک پر نکالنا شروع کردیا

اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے احتجاج کو فرقہ وارانہ شکل دینے کے لئے نواز حکومت نے کالعدم تکفیری جماعتوں کو ٹاسک دیدیا ہے۔ اس مرحلہ کا پہلا نمونہ کل اسلام آباد میں دیکھنے میں آیا جب اسلام آباد کی مسجد ضرار سے تکفیریوں کا ایک گروہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف گالیاں بکتا ہو ا نکالا، اس پورے جلوس میں تکفیری نوجوان کا ہدف سنی مسلمانوں کے رہنماء علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اور شیعہ مسلماں تھے۔ پوری ریلی میں کافر کافر کے نعرے بلند تھے جبکہ پولیس تمائشی بنی تکفیریوں کے اس ڈرامے کا دیکھتی رہی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمہوریت ہے؟ اگر نواز شریف کی یہ جمہوریت ہے تو ہم ایسی جمہوریت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس تکفیری نظام کو ثپوتاژ کرنے کے لئے ہم ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔








