اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کی جدوجہد کو تیز تر کریں، علامہ ساجد نقوی

03 جولائی, 2014 09:05

sajuشیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے ایام ہمیں تطہیر نفس اور تزکیہ ذات کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں جس سے انسان کو کردار کی تعمیر جیسی نعمت مستقل طور پر عطا ہو جاتی ہے اور وہ دنیا و آخرت کے تمام مسائل کا مقابلہ کرسکتا ہے لہذا اگر ماہ صیام میں ہم مکمل توجہ اور خلوص کے ساتھ تزکیہ ذات اور تطہیر نفس کا مرحلہ طے کر لیں تو ہمارے لئے آفاق کے در کشادہ ہوسکتے ہیں کیونکہ تقوی اور اصلاح کے عمل سے گزر کر کندن بننے والا انسان ہی معاشروں کی اصلاح اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے ہم جانتے ہیں کہ انسانوں بالخصوص مسلمانوں کی اجتماعی مشکلات کا حل صحیح اور صالح قیادت ہی فراہم کر سکتی ہے۔

اپنے اعزاز میں دی جانے والی افطار پارٹی جس میں علماء کرام، عمائدین اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی، علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ روزہ فقط بھوکے پیاسے رہنے کے لیے فرض نہیں کیا گیا بلکہ روزہ اپنی فرضیت اور وجوب کے اندر متعدد روحانی، فکری، اخلاقی اور جسمانی فوائد کا حامل ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ روزہ ہمیں روحانی اور فکری حوالے سے عبادات کے ذریعے اپنے خالق کے قرب میں لے کر آتا ہے اسی طرح ماہ رمضان کا پاکیزہ ماحول ہماری اخلاقیات میں مثبت تبدیلیاں لاتا ہے بالخصوص سحر و افطار کے سبب ہمارا جسم ہزاروں فاسد مادوں سے پاک ہوکر بیماریوں سے دور ہوجاتا ہے۔ لہذا ہمیں روزے کے ان حقیقی مقاصد سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے نہ کہ صرف صبح شام بھوک پیاس برداشت کی جائے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے سے یہ حقیقت بہت حد تک روشن اور عیاں ہوجاتی ہے کہ اسلامی تعلیمات خواہ عبادات کی شکل میں ہوں یا معاملات کی شکل میں ہوں یہ تمام تعلیمات فطرت کے عین مطابق ہیں اسی بناء پر اسلام کا عادلانہ نظام ہی وہ نظام ہے جو عالم بشریت کے لیے پرسکوں، پر اطمینان، مہذب اور شفاف زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے اس لیے ماہ مبارک ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام اور نفاذ کی جدوجہد کو تیز تر کریں اور اس کے لیے متحد ہو کر بھرپور آواز اٹھائیں۔

1:43 شام جولائی 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔