اسلام آباد: میناب کے شہدا کے لیے ادبی محفل اور فن پاروں کی نمائش
شیعیت نیوز : اسلام آباد میں پاکستان کے ممتاز شاعروں، دانشوروں اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے میناب کے شہدا کے لیے ایک ادبی محفل میں شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد شہدا میناب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایران اور پاکستان کے درمیان دیرینہ ثقافتی رشتے کو مذہبی ادب اور قربانی کے اعلیٰ تصورات کے ذریعے اجاگر کرنا تھا۔
شعراء نے اپنے مرثیوں اور نظموں کے ذریعے ایثار، شہادت اور عاشورہ کے انسانساز مکتب کے گہرے مفاہیم کو ازسرِنو زندہ کیا۔
اس ادبی ماحول نے نہ صرف مدرسہ شجرہ طیبہ کے شہدا کے بلند مرتبے کو سراہا بلکہ پاکستانی طلبہ اور دانشوروں کو مقاومتی ادب کے بلند مضامین کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور مسلم امہ کے درمیان یکجہتی و ہمآہنگی کو فروغ دینے میں ادب کے تعمیری کردار پر زور دینے کا موقع بھی فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھیں : جے ایس او اور اصغریہ علم و عمل تحریکِ پاکستان کے تحت بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد، 65 خون کی بوتلیں عطیہ
کلچرل قونصلیٹ اسلام آباد کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر مجید مشکی نے فن اور ہنر کو تاریخ کو دائمی بنانے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا: آپ عزیز شعراء نے میناب کے معصوم بچوں کی شہادت پر جو نظمیں کہی ہیں، وہ ان بکھرے ہوئے پھولوں کے نام اور یاد کو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مظلوم بچے علم حاصل کرنے کے لیے ایک تعلیمی ماحول میں حاضر تھے مگر امریکی اور اسرائیلی مجرموں کے اجتماعی قتل کے ہتھیاروں سے شہید کر دیے گئے۔
اس پروگرام میں مدرسہ شجرہ طیبہ کے شہدا کی تصاویر اور ان شہید بچوں کے بنائے گئے فن پاروں کی نمائش بھی کی گئی، جس نے حاضرین کے ذہنوں میں اس المیے کی معصومیت کو نیا تناظر بخشا۔







