تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کی جیو مخالف ریلیوں کی آڑ میں شیعہ مخالف نعرے بازی

17 مئی, 2014 10:34

ssp6وینا ملک کی شادی کی تقریب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الذھرہ رضی اللہ عنھا کی شادی کے سہرے کی منقبت پڑھے جانے اور اس دوران ہونے والے معاملات کو اے آر وائی کے اینکر مبشر لقمان نے جو رنگ دیا اور اس حوالے سے جیو اور جنگ گروپ کو رگیدنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا اس سے براہ راست فائدہ شیعہ کی نسل کشی میں ملوث دیوبندی تکفیری گروہ اہل سنت والجماعت اور دیگر تنظیموں کو ہوا

جمعہ کے دن پورے ملک میں دیوبندی مساجد اور ملک بھر کے پریس کلبوں کے باہر دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان/لشکر جھنگوی نے جنگ اور جیو کے خلاف احتجاج کے نام پر جتنے بھی مظاہرے کئے ان مظاہروں میں تقریریں کرتے ہوئے اس دھشت گرد تنظیم کے مرکزی،صوبائی ،ضلعی و دیگر عہدے داروں نے شیعہ کو کھلے عام کافر قرار دیا اور پاکستان کی وریاست سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کی طرح شیعہ کو بھی کافر قرار دیا جائے
دیوبندی اہل سنت والجماعت کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی نے جھنگ میں نماز جمعہ کے خطبہ کے دوران اپنی تقریر میں کہا کہ
“اگر نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں قائد اہل سنت مولانا طارق اعظم کی جانب سے پیش کیا گیا ناموس صحابہ بل منظور کرلیا ہوتا تو رافضی،شیعہ ،سبائی ایسے بھونکتے نہ پھرتے،نہ ہی ان کے ایمان بگاڑ گاہوں میں صحابہ کے خلاف بکواس ہوتی،شیعہ اگر خلفاء کے خلاف بھونکنا بند نہیں کریں گے تو پھر ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو پاگل کتّے کے ساتھ ہوتا ہے”
اہل سنت والجماعت پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل قاری خادم ڈھلوں اور ملتان کے صدر اشفاق انجینئر اور دیگر رہنماؤں نے ملتان میں ریلی نکالی اور خطاب میں ساری باتیں شیعہ کمیونٹی کے خلاف کیں اور شیعہ کو ریاستی سطح پر کافر قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا
اس سے چند روز قبل دیوبندی تکفیری اہل سنت والجماعت کا جنرل سیکرٹری قاری خادم ڈھلوں ملتان کے نواح 13/اے ایچ رکھ مخدوم کی ایک دیوبندی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ گیا کہ
جو امیر معاویہ کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ قران اور اسلام کا باغی ہے اور اس کی سزا موت ہے،حکومت توھین صحابہ پر سزائے موت کا قانون جب تک نہیں بنائے گی توھین کرنے والے محبان صحابہ کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچتے رہیں گے
قاری خادم ڈھلوں جس چک میں تقریر کررہا تھا وہ جنود الحفصہ المعروف تحریک طالبان پنجاب کے امیر عصمت اللہ معاویہ کا آبائی چک ہے
سندھ کے دارالحکومت میں اہل سنت والجماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و نشریات اورنگ زیب فاروقی کی تقریر بھی اس سے مختلف نہیں تھی
ملک بھر میں دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم نے جیو و جنگ گروپ کے خلاف تازہ توھین مذھب کے الزام کو لیکر اس موقعہ کو شیعہ کے خلاف نفرت پھیلانے اور شیعہ کو غیر مسلم قرار دلوانے کی مہم کو تیز کرنے کا زریعہ بنایا
جیسا کہ ادارہ تعمیر پاکستان نے اپنی انگریزی پوسٹ جوکہ اس نے جمعرات کو شایع کی تھی میں اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مبشر لقمان جو مہم جیو ،جنگ کو گرانے کے لیے شروع کررہا ہے اس سے جیو جنگ گروپ گرے نہ گرے لیکن اہل تشیع کے خلاف اس مہم کو ضرور استعمال کیا جائے گا
ہمارے یہ خدشات بالکل ٹھیک ثابت ہوئے اور افسوس اس بات کا ہے کہ اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی بہت سی جماعتیں اور عام شیعہ و بریلوی اے آر وائی اور جیو کی مسابقانہ جنگ کے اس نئے مرحلے میں بے سمجھے ،بے سوچے کود پڑے اور انھوں نے یہ بھی خیال نہ کیا کہ آنے والے دنوں میں جب ان کے خلاف گستاخ معاویہ اور شرک و بدعت کے مرتکبین کا فتوی دیکر دیوبندی تکفیری ان کے خلاف کاروائی کریں گے تو وہ کیسے اس کا دفاع کریں گے
جبکہ اہل تشیع اور اہل سنت بریلوی بخوبی واقف ہیں کہ کیسے ان کے خلاف توھین صحابہ کرام یا توھین مذھب کا الزام لگاکر مقدمات درج کرائے جانے کے سلسلے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہ مقدمات دیوبندی اہل سنت والجماعت /سپاہ صحابہ پاکستان کی مدعیت میں درج کئے جارہے ہیں اور زیادہ تر ایسے مقدمات پنجاب اور پھر سندھ میں درج کرائے جانے کا سلسلہ جاری و ساری ہے
تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس مئی کی 22 تاریخ کو طلب کیا گیا ہے جو جیو جنگ گروپ کی جانب سے توھین اہل بیت کے ارتکاب کے الزام کا جائزہ لے گا اور اس حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا
اسلامی نظریاتی کونسل اس وقت تنگ نظر دیوبندی ملّاؤں کے زیر اثر ہے اور اس کونسل سے کوئی بعید نہیں ہے کہ ایسی قانون سازی کے لیے سفارشات پیش کرے جس سے اس ملک میں شیعہ کے لیے جگہ اور تنگ ہوجائے
ہمارے نزدیک اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی مذھبی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو سب سے پہلے تو اہل سنت والجماعت دیوبندی تنظیم کے دفاتر بند کرانے اور ان کی دھشت گرد انتہا پسند قیادت کو گرفتار کرنے کی مہم چلانی چاہئے اور حکومت سے مطالبہ ہونا چاہئیے کہ جب اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا جاچکا تو یہ تنظیم کام کیسے کررہی ہے
دوسرا اہل سنت و شیعہ تنظیموں کو محمد احمد لدھیانوی،قاری ڈھلوں،اورنگ زیب فاروقی سمیت دیوبندی تکفیری انتہا پسندوں کے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں کوریج اور ان کے ٹاک شوز میں آنے کے سلسلے کو بند کرانے کا مطالبہ سامنے رکھنا چاہئیے اور اس حوالے سے طاقت کا مظاہرہ ہونا چاہئیے
پنجاب اسمبلی میں جمعہ کے روز ہی جو قرارداد منظور ہوئی یہ ایک طرح سے میچ پریکٹس ہے اور جو ماحول اس وقت توھین مذھب کے نام پر بنایا جارہا ہے اس کے سب سے بڑے متاثرین احمدیوں،ہندؤں ،عیسائیوں کے بعد شیعہ اور اہل سنت بریلوی بننے والے ہیں
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بلاسفمی ایکٹ کے تحت جس پر مقدمہ درج ہوتا ہے اس کے لیے نہ تو وکیل میسر ہوتا ہے،نہ ہی گواہ اور نہ ہی پراسیکیوشن و جوڈیشری کو غیر جانبدارانہ طور پر کام کرنے دیا جاتا ہے تو بالکل اسی طرح دیوبندی تکفیری جماعت اہل سنت والجماعت صوبوں اور مرکز میں توھین صحابہ بل لانے کی خواہش مند ہے تو اس کا مقصد اس بل سے بننے والے قانون کی آڑ میں شیعہ اور بریلویوں کو خاص طور پر معتوب کرنا اور ان کی پراسیکیوشن کو لیگل قرار دلوانا ہے
اس سارے عمل میں المیہ یہ ہے کہ دیوبندی انتہا پسند اور تکفیری اپنے عزائم اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کے کندھے ہی استعمال کرکے پورے کرنا چاہتے ہیں اور وہ شیعہ و بریلوی کے جذبات سے کھیل رہے ہیں
ہم پھر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اہل سنت بریلوی اور اہل تشیع کی سنٹر رائٹ سیاسی جماعتوں کو ادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کی سیاست کا بنیادی ہاٹ ایشو ملک میں پھیلے ہوئے دیوبندی تکفیری دھشت گرد اور انتہا پسند نیٹ ورک ہیں جن کی سب سے بڑی سرپرست اور ترجمان کالعدم اہل سنت والجماعت دیوبندی ہے اور جس کا عسکریت پسند چہرہ طالبان و لشکر جھنگوی و جیش محمد وغیرہ ہیں اور ان سب کے خلاف بھرپور آپریشن ،ان کے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور ان کے لیڈروں کی گرفتاری یہ وہ اہداف ہیں جن پر سنّی اتحاد کونسل،پاکستان سنّی تحریک،مجلس وحدت المسلمین و دیگر سنٹر رائٹ شیعہ و بریلوی تنظیموں کو کام کرنا چاہئیے اور اس پر فوکس رکھنا چاہئیے

2:34 صبح جون 29, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔