تین اکتوبر کو قومی عزاداری کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو گی

20 ستمبر, 2010 14:17

Allama_Raja_Nasir_Abbasمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ امین شہیدی،مرکزی ترجمان علامہ حسن ظفر نقوی،مولانا احمد اقبال،مولانا عبد الخالق اسدی اور کراچی کے سیکرٹری جنرل محمد مہدی نے کراچی پریس کلب میں پاراچنار کی موجودہ صورتحال اور ملک میں ملت جعفریہ کے اجتماعات پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں اور مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے پیر کے روز کراچی پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں جاری ملت جعفریہ کی نسل کشی اور مسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف 3اکتوبر کو اسلام آباد میں ”قومی عزداری کانفرنس ” منعقد کی جائے گی،شہدائے یوم علی علیہ السلام لاہور کا چہلم اور ”تعزیتی اجتماع” 10اکتوبر کو ناصر باغ لاہور جبکہ شہدائے یوم القدس کوئٹہ کا چہلم 15اکتوبر کو کوئٹہ میں کیا جائے گا،رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کے تحقیقاتی ٹریبونل برائے سانحہ یوم القدس کو مسترد کرتے ہیں،ہائی کورٹ کے سینئر ججز پر مشتمل شفاف ٹریبونل قائم کیا جائے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں،انہوںنے کراچی میں جلوس جنازہ پر رینجرز کی دہشت گردانہ فائرنگ کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ،حکومت رینجرز کے دہشت گردوں کے خلاف نوٹس لے کہ جن کی سفاکیت کی وجہ سے دو شیعہ نوجوان شہید اور متعدد ذخمی ہو گئے ورنہ سخت لائحہ عمل طے کریں گے،انکاکہنا تھا کہ رینجرز کی دہشت گردی کے نتیجہ میں جلوس جنازہ کے 2 نوجوانوں کی شہادت پر رینجرز انتظامیہ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنماؤں کاکہنا تھا کہ پورا ملک اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور کالعدم دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے درندہ صفت دہشت گرد ایک ایسے وقت میں کہ جب پوری قوم سیلاب کی تباہ کاریوں میں پریشان حال ہے،پاکستان کے محب وطن لوگوں کو اپنی سفاکیت کا نشانہ بنا رہے ہیں ،خواہ صوبہ خیبر پختونخواہ ہو،صوبہ پنجاب ہو،صوبہ بلوچستان ہو یا پھر صوبہ سندھ سمیت پاکستان کے قبائلی علاقے ہوں ،آج امریکہ ،اسرائیل اور بھارت کی ایماء پر کام کرنے والی کالعدم دہشتگرد جماعتیں پورے ملک میں دہشتگردی کرتی ہوئے نظر آ رہی ہیں جبکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیںاور وفاقی حکومت بے بس اور خاموش تماشائی بنی نظر آ رہی ہے،ایسا محسوس ہو رہاہے کہ کالعدم دہشتگرد جماعتوں اور طالبان دہشت گردوں کو پاکستان کے عوام اور بلخصوص بانیان پاکستان کی اولادوں ملت جعفریہ پاکستان کی نسل کشی کا لائسنس جاری کر دیا گیاہے،ان کاکہنا تھا کہ کرم ایجنسی پاراچنار میں گذشتہ چار سال سے طالبان دہشت گردوں نے محاصرہ کر رکھاہے جس کے باعث ٹل پاراچنار سڑک عوام کے سفر کے لئے بند ہے جوکہ حکومت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے،ان کاکہنا تھا کہ سانحہ عاشورا،سانحہ اربعین کراچی کے بعد سانحہ لاہور اور پھر سانحہ یوم القدس کوئٹہ میں امریکی اور صہیونی آلہ کار کالعدم دہشت گرد گروہ ملوث ہیں ۔
رہنماؤں کاکہنا تھا کہ حا لیہ دنوں دو ہفتہ قبل پاراچنار ،کرم ایجنسی میں طالبان دہشت گردوں کے پر تشدد حملوں میں پاراچنار،کرم ایجنسی کے علاوں شلوزن اور دیگر ملحقہ دیہاتوں میں سینکڑوں شہریوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنا دیا گیاہے جبکہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے شناختی کارڈ ز چیک کر کے انھیں شدید تشدد کے بعد سفاکانہ طریقوں سے شہید کیا جا رہاہے ،جبکہ طالبان دہشتگرد افغانستان کی سرحد سے پاراچنار،کرم ایجنسی کے لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف مقامی طالبان دہشت گرد اور کرم ایجنسی کی انتظامیہ بھی پاراچنار کے معصوم اور نہتے لوگوں پر گولہ باری اور فائرنگ کر کے دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے ہیں جسکے نتیجہ میں دو ہفتوں میں سینکڑوں بے گناہ شیعہ افراد اور محب وطن افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں ذخمی ہیں۔رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کوئٹہ میںیوم القدس کے جلو س پر ہونےوالے حملے کے ذمہ دار آئی جی بلوچستان،اور ایف سی کمانڈر کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے کہ جن کو دہشت گردی کی واردات کا علم تھا مگر انہوں نے شرکائے جلوس کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی،اور صوبہ بلوچستان کی نا اہل انتظامیہ بشمول وزیر اعلیٰ بلوچستان،اور گورنر بلوچستان کو فی الفور بر طرف کیا جائے ،رہنماؤں نے مطالبہ کیاکہ حکومت پاراچنار کے چار سالہ محاصرے کوختم کروا کے وہاں کے سات لاکھ سے زائد معصوم شہریوںکے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور طالبان دہشت گردوںکے خلاف آپریشن کلین اپ کیا جائے جبکہ ٹل پاراچنار جانے والی سڑک کو عوام کی آمد ورفت کے لئے فوری طور پر بحال کیا جائے کہ جس پر طالبان دہشت گردوں کا قبضہ ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ یوم علی علیہ السلام لاہور میں ہونےوالے بم دھماکوں کے مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور پنجاب حکومت میں موجود کالعدم دہشت گرد جماعتوں کے سرپرست وزراء اور مشیروں کو فی الفور برطرف کر کے سخت سے سخت کاروائی کی جائے،رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں روز عاشورا اور روز اربعین امام حسین علیہ السلام سمیت دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے مراکز کے خلاف آپریشن کیا جائے اور ملت جعفریہ کے بے گناہ سینکڑوں شہیدوںکے قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ،جبکہ پولیس انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑوں اور دہشت گردوں کے سرپرستوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے،بصورت دیگر ملت جعفریہ ملک گیراحتجاج کا سلسلہ شروع کر دے گی جس کا پہلا سلسلہ 3اکتوبر کو اسلام آباد میں ملک گیر ”قومی عزاداری کانفرنس”کے نتیجہ میں ہو گا ۔

11:24 صبح اپریل 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔