غزہ کی طرف امدادی کارواں روان دواں

غزہ کے بارے میں عالمی تشویش میں اضافے کے ساتھ ساتھ غزہ کے محصور باشندوں کے لئے امدادی کاروانوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ مختلف امدادی کاروانوں نے غزہ کا محاصرہ توڑنے اور غزہ کے باشندوں کی تکالیف اور مشکلات کو ختم کرے کے لئے غزہ کی طرف مزید امداد کاروان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد دیکھنے میں آرہا ہےکہ دنیا کے مختلف علاقوں سے غزہ کی طرف امدادی کارواں روان دواں ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ رضا کار اور امدادی کارواں کے افراد صیہونی حکومت کی دھمکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوئے ہیں۔ ۔ فلسطین کے خبررساں ادارے کے مطابق اردن سے انسان دوستانہ کارواں امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ لے کر سنیچر کوغزہ کے لئے روانہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے یورپ سے بھی ایک امدادی کارواں غزہ کے لئے روانہ ہوا تھا ۔ غزہ کے لئے امدادی کاروانوں کی روانگی کا یہ سلسلہ ایسے عالم میں جاری ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے امدادی کاروانوں کو بار بار دھمکیاں دی ہیں اور دے رہی ہے کہ وہ غزہ کا رخ نہ کریں۔ امدادی کاروانوں اور امن پسند افراد کو صیہونی حکومت کی دھمکیوں کے باوجود انہوں نے اعلان کیا ہےکہ وہ غزہ کے لئے امداد جاری رکھیں گے اور غزہ کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ یا درہے صیہونی حکومت نے غزہ کے لئے امداد لے جانے والے افراد اور کاروانوں پر جہاں تک ہوسکا پابندیاں اور محدودیت عائد کرنی کی کوشش کی اور انہیں ہرطرح سے اپنی بہیمیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اسے ذرا سی شرم تک نہ آئي۔ دو ہزار دس میں صیہونی کمانڈوز نے غزہ کے لئے امداد لے جانے والے ترک جہاز پر حملہ کرکے نو امدادی کارکنوں کو قتل کردیا تھا جس پر عالمی سطح پر احتجاج ہوا اور صیہونی حکومت کی مذمت کی گئي۔ عالمی سطح پر مذمت کے بعد بھی صیہونی حکومت انپے ظلم و ستم سے باز نہیں آئي اور اب تک یہ سلسلہ جا ری ہے۔ یاد رہے صیہونی حکومت نے پانچ برسوں قبل امریکہ اور اپنے بعض چھپے ہوئے دوستوں کی ہماہنگي سے غزہ پٹی کا محاصرہ کیا تھا لیکن عالمی برادری نے امدادی کارواں بھیج کر امریکہ اور صیہونی حکومت اوراس کےغیر انسانی اقدامات کی مخالفت کی ہے








