سعودی عرب میں عوام بنیادی ترین حقوق سے محروم

19 جنوری, 2013 07:14

saudi flaqسعودی عرب میں عوامی تحریک جاری ہے۔ سعودی عرب کے مختلف شہروں میں عوام نے احتجاجی مظاہرے کرکے سیاسی قیدیوں کی رہائي کا مطالبہ کیا ہے۔
عوام نے ریاض، مدینہ، دمام اور بریدہ شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرکے لوگوں کی گرفتاریوں کی مذمت کی اور سیاسی قیدیوں کی رہائي کا مطالبہ کیا۔ مدینے میں خواتیں نے بھی احتجاجی مظاہرہ کرکے آل سعود کی تشدد آمیز پالیسیوں کی مذمت کی۔ دمام میں مظاہرین نے سیاسی قیدیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتےہوئے آل سعود کی ظالمانہ اور تشدد آمیز پالیسیوں کی مذمت کی اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ سیاسی قیدیوں کی صورتحال کا پتہ لگانے کی کوشش کریں۔ بریدہ شہر میں بھی بڑا مظاہرہ ہوا جس میں مظاہرین نے وزیر داخلہ محمد بن نايف پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کاکہنا ہےکہ حکومت پر اعتراض کرنے والوں قیدیوں کی تعداد تیس ہزار ہے جنہیں بغیر کسی مقدمے کے برسوں سے جیلوں میں رکھا گيا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ نے آج تک قیدیوں کی تعداد نہیں بتائي ہے ۔ان قیدیوں کو آل سعود نے ابتدائي ترین حقوق سے محروم کررکھا ہے۔ ادھر ایک عالمی سیاسی تجزیہ کار نے کہا ہےکہ سعودی عرب اپنے عوام کو پسماندہ ظاہر کرکے ان کی توہین کررہی ہے۔ واشنگٹن میں خلیج فارس تحقیقاتی سنٹر کےسربراہ علی الاحمد نے کہا کہ سعودی عرب اپنے عوام پر پسماندگي کا الزام لگا کر ان کی تحریک کو کچلنا چاہتا ہے۔ علی الاحمد نے کہا جب تک آل سعود کی حکومت کا خاتمہ نہيں ہوتا اور عوام انتخابات سے اقتدار ہاتھ میں نہیں لیتے سعودی عرب میں اصلاحات نہیں ہوسکتیں۔ ادھر ایک اور سیاسی مبصر زاید العیسی نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں خواتین کو مجلس مشاورت میں شریک کرنے کے سعودی بادشاہ کے اقدام کو نمائشی قراردیا اور کہاکہ سعودی عرب میں خواتین کو ابتدائي ترین حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔

6:28 شام اپریل 6, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔