سعودی عربیہ:اقتدار کی خفیہ اور خاندانی جنگ

15 جولائی, 2011 11:47

shiitenews_sultan_bin_abdul_azizسعودی عرب کے ولی عھد کوما میں چلے گئے ہیں ان کی عمر پچاسی برس ہے اور وہ پیٹ کے کینسر میں مبتلا ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے نام فاش نہ کئے جانے کی شرط پربتایا کہ سلطان بن عبدالعزیز آل سعود جن کے سارے بدن میں کینسر پھیل چکا ہے گذشتہ روز سے کوما میں چلے گئےہیں اور ان کی حالت نہایت نازک بتائي جاتی ہے۔ اس ذریعہ نے بتایا کہ ڈاکٹروں کو اب ان کے روبہ صحت ہونے کی امید نہیں ہے ۔طبی لحاظ سے سعودی ولی عہد کی موت کی خبر ایک ایسے وقت میڈیا ر سامنے آئی ہے کہ خود سعودی فرمانروا امیر عبداللہ بھی سخت علیل ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ولیہد اور خود امیر عبداللہ کے بیک وقت میدان سیاست سے کنارے لگ جانے پیش نظر اقتدار کی خفیہ اور خاندانی جنگ میں شدت آگئی البتہ ابھی کھل کر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس جنگ کا انجام کیا ہوگا اس لئے کہ اس وقت پورا علاقہ عوامی انقلابوں کی لپیٹ میں ہے اور سعودی عرب میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب لوگ ملک میں خاندانی نظام حکومت کے خاتمے کے خلاف مظاہرے نہ کرتے ہوں۔البتہ چونکہ مغربی میڈیا سعودی عرب میں ہونے والے عومی احتجاجات سے متعلق خبروں کو اپنے خاص اہداف کے تحت منظر عام پر لانے سے گریز کرتے ہیں۔برطانیہ کی مدد و حمایت سے سرزمین حجاز پر خاندانی حکومت کی تشکیل اور حتی اس سرزمین کا تاریخی نام تبدیل کرکے شاہ سعود کے نام پر سعودی عرب رکھے جانے کے انتہائی بھونڈے اقدام کے باوجود مغربی ملکوں نے نہ کبھی اس ملک میں جمہوریت کا رونا رویا اور نہ کبھی انسانی حقوق کی بات کی، اور اس کی وجہ یہ کہ انہیں تیل کی دولت سے مالا مال اس خطے میں ایسے نام نہاد حکمرانوں کی ضرورت تھی جو تیل کے بہاؤ ہمیشہ مغرب کی طرف رکھیں اور یہ بیش قیمت سرمایہ نہایت سستے داموں یورپ کی صنعتوں اور کارخانوں کو چلاتا رہے۔لیکن تیونس، مصر، یمن، بحرین اور لیبیا میں عوامی انقلابات مسلمان اقوام کو یہ نوید دے رہے ہیں کہ قومی سرمائے اور ذخائر کی لوٹ مار اور عوام کے استثمار کا دور گذرگیا اور اب ڈکٹیٹروں کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا وقت آگیا ہے۔

4:54 صبح اپریل 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔