تقیسم اسکوائر پر ترک پولیس کی بھاری نفری تعینات

ترکي کي پوليس نے ہزاروں مظاہرين کو منتشر کرنے کےلئے جو تقسيم اسکوائر پر موجود ہيں اطراف کي سڑکوں پر پوزيشنيں سنبھال لي ہيں – ترکي ميں حکومت کے خلاف ملک گير تحريک ايسے وقت ميں جاري ہے جب وزير اعظم رجب طيب اردوغان نے اپنے حاميوں کے اجتماع سے خطاب ميں مظاہرين کو غنڈے اور لٹيرے قرارديا – رجب طيب اردوغان نے اسي طرح خبردار کيا کہ مظاہرين کے اقدامات کے مقابلے ميں حکومت کے صبر کا پيمانہ لبريز ہوتا جارہا ہے۔
اس درميان ترکي کي حکمراں جماعت انصاف اور ترقي پارٹي نے بھي اعلان کيا ہے کہ وہ ترکي کے مختلف شہروں ميں حکومت مخالف مظاہروں کے جواب ميں استنبول اور انقرہ ميں ريلياں نکالنے جارہي ہے۔ اطلاعات کے مطابق انصاف اور ترقي پارٹي کے حامي پندرہ جون کو انقرہ اور سولہ جون کو استنبول ميں حکومت کي حمايت ميں ريلياں نکالے گي۔
ترکي ميں حکومت کے خلاف عوامي مظاہروں کادائرہ اس وقت وسيع ہوگيا جب استنبول کے تقسيم اسکوائر پر دھرنے پر بيٹھے لوگوں پر پوليس نے طاقت کا ا ستعمال کيا۔دھرنے پر بيٹھے لوگ تقسيم اسکوائر اور پارک کو ايک شاپنگ مال ميں تبديل کرنے کے حکومتي فيصلے پر احتجاج کررہے تھے۔
ترکي ميں ماہرين کا کہنا ہے کہ تقسيم اسکوائر کے واقعات اب اردوغان کي حکومت کي داخلہ اور خارجہ پاليسيوں کے خلاف عوام کي ناراضگي کے اظہار کا بہانہ بن گئے ہيں اور ترک عوام حکومت کي داخلہ اور خارجہ پاليسيوں پر اپني شديد ناراضگي کا اظہار کرتے ہوئے وزير اعظم اردوغان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہيں۔ ترک عوام شام ميں اردوغان حکومت کي پاليسيوں اور دہشتگردوں کے لئے انقرہ حکومت کي کھلي حمايت کے سخت خلاف ہيں اسي لئے ماہرين کا کہنا ہے کہ ترکي ميں عوامي ناراضگي کي سب سے بڑي وجہ شام ميں دہشتگردوں کے لئے ترک حکومت کي حمايت کي پاليسي ہے۔








