مینار پاکستان پر "شہیدِ امت”کانفرنس: استعمار کے مقابلے میں ہم متحد اور ڈٹ کر کھڑے ہیں، مقررین
شہید امت کانفرنس
شیعیت نیوز : لاہور: امتِ مسلمہ کے عظیم رہبر، آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور پاکستان کی سالمیت، قومی وحدت، خودمختاری اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و بیداری کے پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے مینارِ پاکستان میں ایک منظم، پُروقار اور تاریخ ساز “شہیدِ امت کانفرنس” منعقد ہوئی۔
اس عظیم الشان اجتماع میں ملک بھر سے ممتاز دینی، سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات نے شرکت کی جبکہ لاکھوں مرد، خواتین اور بچوں کی بھرپور اور نمایاں موجودگی دیکھنے میں آئی۔
تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے خطاب میں کہا کہ یہ عظیم الشان کانفرنس اجتماعی شعور، قومی یکجہتی اور فکری بیداری کا اظہار ہے۔ یہ ان تمام طبقات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی کوشش ہے جنہوں نے حق، انصاف اور مظلومیت کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا۔ رہبرِ شہید کا مکتب صرف ایک فکر نہیں بلکہ ایک عملی راستہ ہے جس کا بنیادی اصول “حضورِ میدان” ہے۔
علامہ سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ حالیہ علاقائی صورتحال اور خطے کی کشیدگی کے دوران پاکستانی قیادت نے سفارت کاری، تدبر اور ثالثی کے ذریعے ایک مثبت اور باوقار کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے اپنے حصے کا کردار ادا کر کے پاکستان کی عزت اور مقام کو بلند کیا ہے، اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نظم، شعور، اتحاد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے دنیا کے سامنے ایک باوقار، باشعور اور منظم ملت کا نمونہ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں : مینارِ پاکستان پر شہید امت کانفرنس کا عظیم الشان اجتماع، دو لاکھ سے زائد افراد کی شرکت
مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد امت مسلمہ کو ایک ایسے فکری و عملی عہد کی طرف متوجہ کرنا ہے جو اسے کمزوری، تفرقہ اور مایوسی سے نکال کر قوت، وحدت اور امید کی طرف لے جائے۔ رہبرِ شہید کی شہادت نے ایک فرد کو تاریخ سے رخصت نہیں کیا بلکہ ایک فکر کو مزید وسعت اور توانائی عطا کی ہے۔
جماعت اسلامی کے رہنما محمد جاوید قصوری نے کہا کہ یہ سنتِ الٰہی ہے کہ اللہ کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ شہیدِ امت امام خامنہ ای کی قربانی بھی اسی سنتِ الٰہی کا درخشاں مظہر ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی اصل تقسیم شیعہ اور سنی کے درمیان نہیں بلکہ حق اور باطل کے درمیان ہے۔ ایک ایسے رہبر کی شہادت جس نے اپنی پوری زندگی مظلوموں کی حمایت میں گزاری، نے فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔
امامیہ آرگنائزیشن پاکستان کے چیئرمین حضور مہدی اور آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے بھی خطاب کیا اور شہداء کی قربانیوں سے پیدا ہونے والی تاریخی فرصت کو امت کے اتحاد اور بیداری کا ذریعہ قرار دیا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ اجتماع کے دوران قومی یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور امتِ مسلمہ کے مشترکہ مسائل کے حوالے سے اہم پیغامات دیے گئے جبکہ تقریب کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کرنے کا بھی امکان ہے۔
یہ اجتماع پاکستان میں حالیہ برسوں کے سب سے بڑے عوامی مذہبی و سیاسی اجتماعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مختلف مکاتبِ فکر اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی شرکت خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔







