بشار الاسد نے دمشق کی مسجد الاعفرام میں نماز کی ادائگی، لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے

شام کے صدر بشار الاسد گذشتہ کچھ ماہ کے بعد پہلی مرتبہ عوام کے درمیان سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئے ہیں اور انھوں نے دارالحکومت دمشق کی ایک مسجد میں نماز ادا کی ہے۔ دوسری جانب ان کی فوج نے وسطی شہر حمص میں باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔ بشار الاسد اس سے قبل چھے جنوری کو سرکاری ٹی وی پر نمودار ہوئے تھے اور انھوں نے قوم سے خطاب کیا تھا۔ وہ جمعرات کو ایک طویل کے عرصے کے بعد شہریوں کے ساتھ گھلتے ملتے ہوئے سرکاری ٹی وی پر دیکھے گئے ہیں۔ انھوں نے دمشق کے ایک شمالی علاقے میں واقع مسجد الاعفرام میں نماز ادا کی۔ ان کے ساتھ مصر کے مفتی اعظم احمد حصون اور مذہبی وقف کے وزیر محمد عبدالستار تھے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ کے مطابق وزیر مذہبی امور نے جمعہ کو شہریوں سے مساجد میں ملک میں جاری خونریزی کے خاتمے اور سکیورٹی کے قیام کے لیے ”ملین مین نماز” ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی صدر کی الاعفرام مسجد میں آمد کے وقت بیسیوں علماء اور عام شہری موجود تھے۔ بشار الاسد نے وہاں عام شہریوں سے معانقہ کیا اور وہ بظاہر خوش نظر آ رہے تھے۔ ان کی یہ فوٹیج سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی ہے۔ دوسری جانب وسطی شہر حمص میں شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان مسلسل پانچویں روز جھڑپیں جاری ہیں اور سرکاری فوج باغیوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کر رہی ہے۔








