آل خليفہ حكومت نے شيعہ تنظيم ” عمل اسلامی ” پر پابندی لگا دی

بحرينی عدالت نے عمل اسلامی كے بارے میں یہ كہتے ہوئے كہ تنظيم اپنے اخراجات كے ذرائع سے مطلع نہیں كر رہی اور حكومت مخالف سر گرميوں میں ملوث بھی ہے اس لئے اسے تحليل كيا جاتا ہے، اسی طرح معاشرے میں بدامنی اور عوام كو حكومت مخالف مظاہروں پر اكسانا جيسے الزامات بھی اس تنظيم پر لگائے گے۔
وزارت انصاف نے 2011ء میں اس كے مركزی دفتر پر قبضہ كر كے عدالت میں اس كے خلاف مقدمہ كر ديا تھا، اس كے بعد عمل اسلامی كے سيكرٹری جنرل محمد علی محفوظ دوسرے كاركنوں كو حكومت كے خلاف بغاوت كے جرم میں گرفتار كی ليا گيا تھا ۔
شيعہ تحريك الوفاق نے حكومتی اقدام كی شديد مذمت كرتے ہوئے كہا كہ یہ اقدام بحرين كے آئين كے خلاف ہے ۔








