بحرین، ڈاکٹروں کو شدید ایذائیں

بحرین میں گرفتار شدہ ڈاکٹروں کے اہل خانہ نے بتایا ہے کہ ان ڈاکٹروں کو آل خلیفہ اور سعودی کارندوں نے شدید جسمانی ایذائيں پہنچائي ہیں۔ڈاکٹروں کے اہل خانہ نے بتایا کہ جسمانی ایذاوں کےتحت ڈاکٹروں کو ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گيا ہے۔ بحرین کی فوجی عدالتوں میں بیس ڈاکٹروں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ۔ان ڈاکٹروں کو انقلابیوں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا۔
ادھر بحرین کے ایک انقلابی رہنما نے کہا ہے کہ بحرینی عوام حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پراعتماد نہیں رکھتے۔ بحرین کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ فاضل عباس نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ ملت بحرین، حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پرذرہ برابر اعتماد نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا اگر آل خلیفہ حقیقت تک پہنچنا چاہتی ہے تو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو آنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی۔ادھر بحرین کے ایک اور انقلابی رہنما محمد شہابی نے کہا ہے کہ نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینا بھی آل خلیفہ کی شکست کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوچتاہوں کہ بحرین میں جاری تشدد کی تحقیقات کرانے کے لئے جو کمیٹی بنائي گئي ہے اس میں سب سے پہلے آل خلیفہ کے بادشاہ کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا بڑی مضحکہ خیز بات ہے کیونکہ اب بھی سیکڑوں انقلابی جیلوں میں ہیں اور آل خلیفہ تحقیقات کی بات کر رہی ہے۔








