مصری عوام عشق اہل بیت (ع) میں زبانزد ہیں

مصر کی آنے والے صدارتی انتخابات کے امیدوار نے کہا ہے کہ مصری عوام "شیعہ مسلک سنی” ہیں اور دنیا میں مصری عوام عشق اہل بیت (ع) کے حوالے سے زبانزد ہیں۔انھوں نے کہا: عرب ممالک میں عوامی تحریکوں کی بنیاد اسلامی آگہی اور بیداری ہے، ان ممالک میں عوامی تحریک حکام کے ظلم و جور کے خلاف ہے اور یہ تحریکیں عوام کی دینی اور سیاسی وحدت پر استوار ہیں اور یہ وہی چیز ہے جو بہت سوں کے لئے خوف و وحشت کا باعث ہے۔
سلیم العواء جو مصری مفکرین کے درمیان بھی اہم مقام و منزلت رکھتے ہیں، نے مصری اہل تشیع کو مصر کے تمام سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا: سابق آمریت نے انہیں دباؤ میں رکھا تھا لیکن مصر کے اہل تشیع کو اس وقت ملک کی سیاسی حیات میں شراکت اور سیاسی جماعتوں کے قیام کے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں۔
انھوں نے مصر میں شیعہ جماعتوں کی تشکیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا: میں شیعہ جماعتوں کی تشکیل کے خلاف نہیں ہوں۔
قابل ذکر ہے کہ مصر میں صدارتی انتخابات کی تاریخ قریب سے قریب تر آرہی ہے اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صدارتی انتخابات کے نامزد امیدوار سابقہ حکومت پر تنقید کررہے ہیں اور حسنی مبارک کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے شیعہ جماعتوں کی تشکیل کا خیر مقدم کررہے ہیں۔
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ صدارتی امیداروں کی جانب سے شیعہ جماعتوں کی تشکیل کا خیر مقدم اور ان کی طرف سے شیعیان مصر کی دلجوئی سے کم از کم ایک حقیقت سے خودبخود پردہ اٹھتا ہے کہ مصر میں شیعیان اہل بیت (ع) کی آبادی اتنی ضرور ہے کہ وہ کسی کو صدر بنانے یا کسی کے صدر بننے میں رکاوٹ ڈالنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ یہ امیدوار اس وقت اقتدار کے حصول کے لئے انتخابی مہم چلارہے ہیں اور ان کا مقصد عوام کے ووٹ حاصل کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
مصر میں اہل تشیع کی آبادی کئی ملین ہے

مصر کے فرقہ ہاشمیہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ مصر میں کئی ملین شیعہ رہتے ہیں جنہیں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک نے شدید دباؤ میں رکھ کر گوشہ نشین کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مصر کے فرقہ ہاشمیہ کے سربراہ "طاہر الہاشمی” نے امریکی تشہیراتی ذرائع کی رپورٹ کو مسترد کیا ہے جن میں کہا جارہا ہے کہ مصر میں اہل تشیع کی تعداد دس لاکھ کے قریب ہے!۔
انھوں نے کہا کہ امریکی تشہیراتی اداروں کی یہ رپورٹ بے بنیاد ہے اور مصر میں کئی ملین شیعہ رہتے ہیں۔
انھوں نے سابق مصری ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی طرف سے مصر کے شیعیان اہل بیت (ع) پر شدید سرکاری دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مصر میں خاندان ہی نہیں شیعہ قبائل تک موجود ہیں جو اس سے قبل اہل بیت اطہار (ع)، بالخصوص امام عصر مہدی آخر الزمان (عج) کے ایام ولادت پر اپنے گھروں میں جشن منانے پر مجبور تھے اور گھروں کے باہر ان جشن ہائے ولادت کے انعقاد سے نہایت تشدد آمیز انداز میں روکا جاتا تھا۔
انھوں نے کہا: مصر میں شیعہ اور سنی نہایت پرامن زندگی بسر کررہے ہیں اور پرامن بقائے باہمی کے اعلی ترین نمونے پیش کررہے ہیں اور مصر میں اہل بیت علیہم السلام کی ولادت کی تقریبات اور شہادت کی مجالس شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان مشترکہ ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مصر کے شیعہ راہنما "احمد راسم النفیس” نے حال ہی میں مصر کی شیعہ آبادی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "مصر میں شیعیان اہل بیت (ع) کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے اور ہم اعداد و شمار کے درپے بھی نہیں ہیں کیوں کہ تشیع کا انحصار افراد کی تعداد پر نہیں ہے بلکہ جو بھی اہل بیت (ع) کی ولایت اور محبت پر معتقد ہو وہ ہماری خیال میں شیعہ ہی ہے۔








