شہریت چاہئے تو بحرینی مظاہرین کو مار دو۔آل خلیفہ کی ہدایت

بحرین میں بیرونی ممالک سے بلائے گئے لوگ اس وقت بڑی مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں کہاجاتا ہے کہ مجنسین یا شہریت یافتہ کہلانے والے یہ لوگ اگرچہ بہت سے عرب اور غیر عرب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد پاکستانیوں کی ہے جو بحرین میں مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں جن میں پولیس اور فوج بھی شامل ہے اور حال ہی میں پاکستان سے دو مختلف مراحل میں تقریباپانچ ہزار افراد کو نیشنل سیکوریٹی گارڈ کے عنوان سے بھیجا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض ٹی چینلز اور خبری سائیٹوں کے مطابق ان بیرونی ممالک سے آئے افراد کا کام بحرینی آلہ خلیفہ کی مکمل اطاعت ہے یہاں تک کہ یہ اطاعت غلامانہ حد تک ہے معمولی وعدہ خلافی ان کو وہاں حاصل مراعات سے محروم کردیتی ہے ،اور ابھی حال ہی میں بحرینی حکومت نے بیرونی کرایے کے غنڈوں کو عوامی قتل عام کے بدلے میں بحرینی نیشنلٹی کا وعدہ بھی کیا ہے
اس وقت افسوناک پہلو یہ ہے کہ بحرین سمیت دنیا بھر کے انسانی ضمیر ان کرایے کے غنڈوں کی مذمت کرہا ہے اور انہیں پاکستانی کرایے کے غنڈے کہہ کر پکارتا ہے جو وطن عزیز کی بدنامی کا سبب ہے ۔اس لئے ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے کہ وہ جن افراد کو نوکری کی غرض سے بحرین بھیج رہے ہیں ان سے وہاں کیا کام لیا جارہا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ دو وقت کی روٹی پوری قوم اور ملک کی بدنامی کے عوض تو نہیں مل رہی؟کیا بے گناہوں کے خون سے پکنے والے روٹی کھا کر کوئی قوم یا ملک اپنے لئے فخر محسوس کرسکتا ہے ؟
پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے جو ہمیشہ سے عالم اسلام اور اسلامی ممالک و قوموں کے حق کے حصول کے لئے پیش پیش رہی ہے اور عرب ممالک میں ایک خاص مقام کھتی ہے ،لیکن کیا عرب ظالم حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کو بچانے کی خاطر بے گناہوں کے خون میں ہاتھ رنگنا ہماری تاریخ کا سنہرا ورق شمار ہوگا؟حکمران عوام سے اٹھتے ہیں تو کیا یہ عقلمندی ہوگی کہ اس وقت کے ظالم حکمرانوں کے بچاﺅ میں عوام سے دشمنی مول لیں اور اگر کل کو بازی پلٹ گئی تو کیا ہوگا؟
کہا جاتا ہے کہ اس وقت بحرین میں جو پاکستانی واپس وطن لوٹنا چاہتا ہے انہیں بحرینی حکومتی ادارے ہراساں کر رہے ہیں اور دھمکیاں دیں جارہیں ہیں، حکومت کو چاہیے کہ پہلی فرصت میں بحرین سے اپنی عوام کو باہر نکالنے کا انتظام کرے جیساکہ لیبیا اور مصر سے کیا گیا تھا ۔
ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر جو بڑی تیزی سے پھیلتی جارہی ہے ،رکنے کے بجائے مزید تیزی آگے بڑھے گی یمن ،لیبیا،اردن بحرین کی عوام کوممکن ہے کہ ایک طویل جد وجہدسے گذرنا پڑے لیکن کامیابی ان کی ہی ہے ظاہرہے کہ ہر ملک کے خاص حالات اور تقاضے ہیں اور ان تقاضوںکے مطابق ہی عوام کو اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے کوشش کرنا ہوگی اور یہ توقع نہیں رکھنا چاہیے کہ چند دنوں یا مہینوں کے اندر ہی تبدیلی ہوگی اور اہداف حاصل ہونگے بعض اوقات مقاصد کے حصول کی کوششیں نسل در نسل چلتیں ہیں ،لیکن یہ کوشش اپنے اندر اس بات کی گارنٹی ضرور رکھتی ہے کہ کامیابی ان کی ہوگی۔








