عراق میں دہشت گردی کی تازہ لہر 11 شیعوں سمیت 31 افراد شہید

عراق میں پیر کے روز ہونے والے خونی بم دھماکوں اور شیعہ مسجد میں ہونے والے دھماکے میں 31 افراد شہید ہوگئے ۔شیعت نیوز کی رپورٹ کے مطابق حملوں کا آغاز صبح 6:30 بجے شروع ہوا اور 8 بجے تک جاری رہا۔1:30گھنٹوںکے دوران دہشت گردی کے ان واقعات میں 31 سے زائد افراد شہید ہوئے جس میں اکثریت کا تعلق عراق میں قانون نافز کرنے والے اداروں سے ہے جبکہ بغداد سے 60کلو میٹر کے فاصلے پر سواریا میں ہونے والے 2 بم دھماکوں میں 11 سے زائد افراد شہید اور 70 زخمی ہوئے۔ پیر کے روز ہونے والے دہشت گردی کے واقعات 23 اپریل کے بعد آج کا دن سب سے خونی دن ہے جبکہ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں القائدہ نامی دہشت گرد تنظیم کے دہشت گرد ملوث ہیں ۔
پیر کے روز عراق میں 20کے قریب دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔اور بغداد میں عراقی سکیورٹی اہلکار میجر جنرل قاسم عطاء کے مطابق تمام حملے آپس میں مربوط تھے موجودہ دہشت گردی کے واقعات اُس صورتِ حال میں ہوئے ہیں جبکہ عراق میں پالیمانی انتخابات کو 2ماہ کا عرصہ گزر نے کے باوجود عراقی سیاسی و مذہنی جماعتوںکو حکومت سازی کے حوالے سے کسی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔








