اسلامی سیاست کا مقصد عدل اور مظلوموں کی حمایت ہے، علامہ سید احمد اقبال رضوی

05 نومبر, 2026 08:38

شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ دین اور سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں، اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عبادات اور انفرادی زندگی کے ساتھ اجتماعی، سماجی اور سیاسی معاملات میں بھی انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اسلامی سیاست کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عدل و انصاف کا قیام، مظلوموں کے حقوق کا تحفظ اور ظلم کے خلاف جدوجہد ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، شہرت اور اقتدار کی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا اور عوامی خدمت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ انبیائے کرام اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی جدوجہد صرف تبلیغ تک محدود نہیں تھی بلکہ معاشرے کی اصلاح، عدل کا قیام اور ظالمانہ نظاموں کے خلاف مزاحمت بھی اس میں شامل تھی، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کرکے اجتماعی اور سیاسی نظام کی بنیاد رکھی۔

علامہ سید احمد اقبال رضوی نے مکتب اہل بیت علیہم السلام میں امامت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امام محض مذہبی مسائل بیان کرنے والی شخصیت نہیں بلکہ دین کی حفاظت، قرآن و سنت کی صحیح تشریح، امت کی رہنمائی اور عدل کے قیام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کے قیام کو ظلم کے خلاف کھلی مزاحمت کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یزید کی بیعت سے انکار نے واضح کر دیا کہ ظالمانہ اقتدار کے سامنے حق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : مرکزی کنونشن 7 اور 8 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا، علامہ سید احمد اقبال رضوی

انہوں نے حدیث نبوی "افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حق گوئی، مظلوموں کی حمایت اور حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانا اسلامی سیاست کے بنیادی تقاضے ہیں، تاہم ظلم کے خلاف جدوجہد کا مطلب بے گناہوں کے خلاف تشدد نہیں بلکہ حق اور انصاف کے لیے اصولی مؤقف اختیار کرنا ہے۔

علامہ سید احمد اقبال رضوی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ ظلم صرف براہ راست ظلم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ظالم کے اقدامات میں عملی معاونت اور مظلوموں کے حقوق دبانے میں شریک ہونا بھی قابل مذمت ہے، اس لیے کسی مسلمان کو ایسے کام میں شریک نہیں ہونا چاہیے جو ظلم و ناانصافی کا سبب بنے۔

9:44 صبح نومبر 5, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔