تعز کے محاصرے کا سعودی پروپیگنڈا بے نقاب، ایک دن میں 754 ٹرک شہر میں داخل

05 نومبر, 2026 08:49

شیعیت نیوز : سعودی رجیم کے حمایت یافتہ ذرائع ابلاغ اور ان کے مقامی اتحادی برسوں سے یہ بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ صنعاء کی حکومت نے تعز شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہاں خوراک، دوا اور ایندھن نہیں پہنچنے دیا جا رہا، مگر شہر کے داخلی راستوں سے سامنے آنے والی تازہ ویڈیوز اور اعداد و شمار اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔

تعز شہر کے مغربی داخلی راستے الہجرہ چیک پوائنٹ پر بنائی گئی ویڈیوز میں تجارتی سامان، خوراک، ادویات اور پیٹرولیم مصنوعات سے لدے ٹرکوں اور مسافر گاڑیوں کی مسلسل آمد و رفت دکھائی دیتی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق صرف ایک دن میں 754 ٹرک اور گاڑیاں اسی راستے سے شہر میں داخل ہوئیں، جن میں لاکھوں لیٹر ڈیزل، پیٹرول اور گیس کے علاوہ خوراک، ادویات، گوشت، پھل اور سبزیاں شامل تھیں۔

ویڈیوز میں بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے چار ٹرک بھی دیکھے گئے جو الثورہ اسپتال کے لیے ادویات اور طبی سامان لے کر جا رہے تھے۔ کراسنگ پر موجود ڈرائیوروں اور مسافروں نے بتایا کہ سڑک چوبیس گھنٹے کھلی ہے، ٹرک معمول کے مطابق آ جا رہے ہیں اور سامان یا شہریوں کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : یمن میں مساجد پر بمباری کرنے والے حرمین کے محافظ نہیں ہو سکتے، یمنی ہیومن رائٹس

یمنی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ تعز آنے جانے والی تمام مرکزی سڑکیں کھلی ہیں اور صنعاء حکومت کے زیر حفاظت ہیں، اور تمام سرکاری ادارے تعز کے اضلاع میں بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ کراس نے بغیر کسی شور شرابے کے ادویات کا قافلہ شہر پہنچایا، اور اگر اقوام متحدہ انسانی خدمت میں سنجیدہ ہے تو اسے بھی یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر بھی یمنی کارکنوں نے اس پروپیگنڈے کا جواب دیا ہے۔ ایک سیاسی کارکن نے "تعز محاصرے میں” کے بیانیے کو 12 سال پرانا سیاسی ڈرامہ قرار دیا، جبکہ ایک اور کارکن نے سعودی حمایت یافتہ اصلاح پارٹی کے گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ خود خوراک اور دوا روک کر محاصرے کا مسئلہ عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ صنعاء کی فورسز صرف اسلحے اور گولہ بارود کی ترسیل پر پابندی لگاتی ہیں۔

10:09 صبح نومبر 5, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔