جارحیت جاری رکھنا آل سعود کیلئے صرف نقصان کا باعث بنے گا، سید عبدالملک الحوثی

30 اکتوبر, 2026 18:26

شیعیت نیوز : انصار اللہ یمن کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے سعودی رجیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظلوم یمنی عوام کے خلاف جارحیت اور محاصرہ بند کرے، اور خبردار کیا ہے کہ جارحیت پر اصرار آل سعود کے لیے صرف نقصان ہی لائے گا۔

یوم شہید 1448 ہجری کی مناسبت سے جمعرات کی شب خطاب میں انہوں نے کہا کہ یمنی قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ سرکاری اور عوامی سطح پر اس ظالمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی، اللہ کے فضل سے ہم پیش قدمی کی پوزیشن میں ہیں جبکہ دشمن ہر روز بھاری نقصان اٹھا رہا ہے، اور ہماری مساوات محاصرے کے بدلے محاصرہ اور کشیدگی کے بدلے کشیدگی ہے۔

سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ دشمن روزانہ یمنی عوام کے خلاف ہولناک جرائم کر رہا ہے، جن میں الحزم کی مارکیٹ اور تعز کی مارکیٹوں میں بچوں اور عورتوں کا قتل عام شامل ہے، اور جو بھی سعودی جارحیت کی حمایت کرتا ہے وہ بچوں اور عورتوں کے قتل سمیت اس کے جرائم میں شریک ہے۔

یہ بھی پڑھیں : حرمین پر حملے سے متعلق سعودی رجیم کا دعویٰ جھوٹ ہے، ترجمان یمنی مسلح افواج

انہوں نے عرب اور اسلامی اقوام سے اپیل کی کہ وہ سعودی رجیم کے جھوٹے دعووں، بہتان اور پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں، کیونکہ یہ رجیم جھوٹی، بدعنوان، مجرم اور منافق ہے اور اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں اور صیہونیت کی خدمت کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ آل سعود نے حرمین شریفین کی فضائی حدود صیہونیوں اور غاصب اسرائیل کے لیے کھول رکھی ہیں جبکہ یمنی عوام پر ان کی اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ تعز شہر کا کوئی محاصرہ نہیں، خوراک اور انسانی ضروریات کی ہر چیز شہر میں داخل ہو سکتی ہے اور صرف سعودی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے لیے اسلحے کا داخلہ روکا گیا ہے، جو اس کی تصدیق کرنا چاہے وہ خود جا کر دیکھ لے، جبکہ یمنی مسلح افواج جنوبی صوبوں کے عوام کو نہیں بلکہ سعودی افسران کی قیادت میں جمع کیے گئے لشکروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ یہ جارحیت امریکی، اسرائیلی اور برطانوی نگرانی میں ہو رہی ہے اور اس کا مقصد یمنی قوم کو امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے تابع کرنا ہے، یمنی عوام کا مطالبہ واضح ہے کہ جارحیت اور محاصرہ ختم کیا جائے، قومی دولت پر سعودی قبضہ ختم ہو اور انہیں آزادی و خودمختاری کا حق دیا جائے۔

7:47 شام اکتوبر 30, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔