تعز میں سعودی بمباری سے تین گھر ملبے کا ڈھیر، 24 گھنٹوں میں 27 یمنی شہید
شیعیت نیوز : یمن کی وزارت صحت و ماحولیات کے مطابق سعودی رجیم نے تعز اور الجوف کے صوبوں میں رہائشی علاقوں، عوامی بازاروں اور آباد گھروں پر فضائی حملے تیز کر دیے ہیں جن میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں 27 عام شہری شہید اور 18 زخمی ہو گئے، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔
سب سے ہولناک حملہ تعز کی مدیریت مقبنہ کے علاقے البرح میں شہری توفیق القوز کے گھر پر کیا گیا، مقامی ذرائع کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے وہاں تین گھر تباہ کر دیے جس سے 14 سے زائد افراد شہید و زخمی ہوئے، القوز خاندان کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ان کے خاندان کے آٹھ افراد شہید ہوئے جن میں ان کی دو بہنیں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تعز فیکٹری پر سعودی حملہ ماحول اور روزگار کیلئے خطرہ، انسانی حقوق اتھارٹی
جمعرات کو تعز کی مدیریات ذباب، المخا، سامع، المسراخ اور الشمایتین پر بھی سعودی فضائی حملے جاری رہے اور صبر الموادم کے علاقے الذباب میں ایک خاتون شہید ہو گئی، جبکہ قومی انسانی حقوق اتھارٹی نے اس حملے کو جبری نقل مکانی اور اجتماعی قتل کی منظم مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے فوری اور آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات اور سعودی قیادت کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب آج جمعہ کو سعودی حمایت یافتہ لشکروں نے تعز کی مدیریت حیفان کے علاقے العروق میں العمور پر مارٹر گولے برسائے جس سے ایک شہری اور ایک بچہ شہید اور چار افراد زخمی ہو گئے، وزارت صحت نے کہا کہ یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جس پر فوری عالمی موقف اختیار کیا جانا چاہیے۔







