آبنائے ہرمز کا انتظام جنگ سے پہلے جیسا کبھی نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ
شیعیت نیوز : ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی و صیہونی جارحیت کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا اور آبنائے ہرمز کا انتظام بھی جنگ سے پہلے کے دور کی طرف واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے یہ بات شہید سفارتکار کمال خرازی کے دستاویزی مرکز اور میوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہی۔
عراقچی نے کہا کہ دہائیوں تک آبنائے ہرمز کھلی رہی اور اس کے ساحلی ممالک ایران اور عمان نے سمندری آمدورفت پر کوئی پابندی عائد نہیں کی بلکہ سلامتی اور سمندری ماحول کے تحفظ میں مدد کی، تاہم موجودہ جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے اور نئی حقیقتیں سامنے آ چکی ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے اب پہلے جیسے نہیں رہیں گے اور نہ ہی اس کا انتظام ماضی کی طرح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جارحین میں ذرا سی بھی عقل ہے تو وہ ایرانی قوم پر دوبارہ فوجی حملے کی کوشش نہیں کریں گے، کیونکہ وہ دو بار یہ کوشش کر کے نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تنصیبات پر حملہ ہوا تو آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبلز محفوظ نہیں رہیں گی، سپاہ پاسداران
عراقچی نے زور دیا کہ خطے کی سلامتی غیر ملکی افواج پر انحصار کے بغیر خود خطے کے ممالک کو یقینی بنانی چاہیے اور ایران و علاقائی ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر پرامن طور پر ساتھ رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے تمام مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے پاکستان، قطر اور دیگر دوست ممالک کی ثالثی میں امریکی فریق سے ہونے والے تمام مذاکرات میں ایران نے زور دیا ہے کہ جنگ کا کوئی بھی خاتمہ تمام محاذوں پر محیط ہونا چاہیے، ورنہ خطے میں استحکام نہیں آئے گا۔







