ایران کو شامل کیے بغیر خلیج فارس کا سکیورٹی نظام نامکمل رہے گا، عمانی وزیر خارجہ

27 اکتوبر, 2026 11:34

شیعیت نیوز : عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے خلیج فارس میں ایک جامع سکیورٹی نظام کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نظام میں خلیج فارس کے تمام آٹھ ساحلی ممالک، یعنی خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک، عراق اور ایران شامل ہونے چاہییں، کیونکہ ایران کو علاقائی سکیورٹی انتظامات سے باہر رکھنے کے منفی نتائج پورے خطے کو بھگتنا پڑے ہیں۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے گرٹن کالج میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً نصف صدی سے ایران کو منظم انداز میں علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنے سے محروم رکھا گیا، بلکہ اسے ایک ایسے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا جس کے خلاف سکیورٹی نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، اور بیرونی طاقتوں کی مسلط کردہ ترجیحات میں یہی سب سے زیادہ نقصان دہ ترجیح تھی۔

البوسعیدی نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان فطری دشمنی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بعض اختلافات ضرور موجود ہیں، لیکن عرب اور ایرانی عوام صدیوں سے خلیج فارس کے اطراف میں پرامن طور پر رہتے آئے ہیں، اور تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ آبادی، تین ہزار سالہ تاریخ اور خلیج فارس کی تقریباً نصف ساحلی پٹی رکھنے والے ایران کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا انتظام جنگ سے پہلے جیسا کبھی نہیں ہوگا، ایرانی وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی سکیورٹی انتظامات بیرونی طاقتوں پر حد سے زیادہ انحصار کرتے رہے ہیں، جبکہ ایران کے جوہری معاملے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل بھی اسی غیر مستحکم صورتحال کا نتیجہ ہیں۔ ان کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے نتیجے میں ایک عبوری معاہدے کا خاکہ تیار ہوا ہے، تاہم اسے سیاسی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

عمانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ خلیج فارس کے لیے ایسا کوئی بھی سکیورٹی نظام جس میں ایران شامل نہ ہو، بنیادی طور پر غیر مستحکم اور ساختی اعتبار سے نامکمل ہوگا، اور حالیہ واقعات نے ایران کو الگ رکھنے اور اس سے دشمنی کے مفروضے پر مبنی پالیسی کی بھاری قیمت واضح کر دی ہے۔

12:30 شام اکتوبر 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔