آذربائیجان میں باحجاب طالبات پر پابندی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، اسکولوں کا بائیکاٹ اور صحافی کی بھوک ہڑتال
اسلامی حجاب
شیعیت نیوز : جمہوریہ آذربائیجان میں باحجاب طالبات کے اسکولوں میں داخلے پر پابندی اور نئے امتیازی ضوابط کے خلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ متعدد اسکولوں کی طالبات نے ان پابندیوں کے خلاف سراپا احتجاج بن کر کلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا ہے اور باحجاب طالبات کے بنیادی، آئینی اور مذہبی حقوق کی بحالی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
باکو شہر کے محکمۂ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں 21 ستمبر کو منظور کی گئی نئی شرائط پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، جس کی طالبات اور والدین کی جانب سے کڑی مذمت کی جا رہی ہے۔ والدین اور عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ ضوابط باحجاب لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو صریحاً سلب کر رہے ہیں، جب کہ آذربائیجان کا آئین ہر شہری کو مفت اور لازمی ثانوی تعلیم کے حق کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز ایران کے علاقائی پانیوں کا اٹوٹ حصہ ہے، ہماری حاکمیت مسلّمہ حق ہے، میجر جنرل یحییٰ صفوی
میدان ٹی وی کی رپورٹس اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے مطابق، باکو کے اسکول نمبر 69 اور ضلع ماسالی کے گاؤں مولااوبا کے بی۔ شیرییف سیکنڈری اسکول کی طالبات نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے یہ شرط رکھی ہے کہ ان کی باحجاب ہم جماعتوں کو فوراً اسکول آنے کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب، باکو کے رچرڈ زورگے سیکنڈری اسکول نمبر 90 میں ایک باحجاب معلمہ کو محض اسلامی پردے کی پابندی کرنے کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ منظرِ عام پر آنے والی تصاویر میں طالبات کو اپنی برطرف شدہ معلمہ سے لپٹ کر روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو اس ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدام پر ان کے گہرے دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔
باحجاب طالبات اور معلمات پر اس ریاستی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے، قید صحافی اور ’خبرمان نیوز‘ ویب سائٹ کے مدیر پولاد اصلانوف نے بھی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ان کی اہلیہ گلمیرا اصلانوا کے مطابق، حراستی مرکز نمبر 15 میں قید اصلانوف نے جمعرات کے روز اسکول یونیفارم کے نئے ضوابط کے خلاف یہ قدم اٹھایا ہے۔ پولاد اصلانوف کا کہنا ہے کہ ان کی اس بھوک ہڑتال کا مقصد ان تمام باحجاب معلمات اور طالبات (جن میں ان کا اپنا بچہ بھی شامل ہے) کے غصب شدہ حقوق کی جانب عالمی اور عوامی توجہ مبذول کروانا ہے، جنہیں بنیادی تعلیم اور اسلامی حجاب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔







