سعودی جارحیت جاری، تعز میں خاتون شہید، یمنی دیہات پر ممنوعہ کلسٹر بموں کی بارش
شیعیت نیوز : یمن پر سعودی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں آل سعود کے جنگی طیاروں کی نئی فضائی کارروائیوں میں ایک خاتون شہید اور متعدد شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوب مغربی صوبہ تعز میں سعودی جنگی طیاروں نے دو فضائی حملوں میں قاضی علی السامعی کے خاندانی گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان کی بہو شہید ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : یمن پر آل سعود کی وحشیانہ بمباری، سعودی رجیم کی سنگین جنایات اور بربریت کی انتہا
سعودی جنگی طیاروں نے صوبہ تعز کے ضلع سامع میں ایک سرکاری ادارے پر بھی دو فضائی حملے کیے، تاہم ممکنہ جانی و مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں مل سکی۔ شمال مغربی صوبہ حجہ کے ضلع عبس میں سعودی رجیم کے چھ فضائی حملوں میں تین عام شہری زخمی ہو گئے، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے بنی حطب کے علاقے میں دیہاتوں پر عالمی سطح پر ممنوعہ کلسٹر بم بھی برسائے۔ واضح رہے کہ کلسٹر بم ایک وسیع علاقے میں بڑی تعداد میں چھوٹے بم بکھیر دیتے ہیں، جن میں سے 40 فیصد تک گرنے کے بعد نہیں پھٹتے اور بعد ازاں عام شہریوں کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں۔
علاوہ ازیں سعودی فورسز نے شمال مغربی صوبہ صعدہ کے اضلاع کتاف و البقع، سحار اور السالم میں متعدد رہائشی علاقوں پر میزائل برسائے، جبکہ صعدہ شہر اور ضلع الصفراء میں ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کو توپخانے سے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی فورسز نے مغربی صوبہ الحدیدہ کے ضلع باجل میں تیل کی ایک تنصیب پر بھی حملہ کیا۔
یاد رہے کہ مارچ 2015 میں امریکہ اور متعدد مغربی ممالک کی فوجی، سیاسی اور لاجسٹک پشت پناہی سے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے یمن کا محاصرہ کر کے ہمہ گیر جنگ مسلط کی تھی، جس میں دسیوں ہزار یمنی شہید ہو چکے ہیں، تاہم آل سعود یمن پر اپنی کٹھ پتلی حکومت دوبارہ مسلط کرنے کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگست کے اوائل سے جاری حالیہ لڑائی کے باعث دو لاکھ سے زائد یمنی بے گھر ہو چکے ہیں۔






