توبہ صرف ندامت نہیں، حق دار کا حق لوٹانا بھی تقاضا ہے، علامہ شبیر حسن میثمی

10 اکتوبر, 2026 13:49

شیعیت نیوز : مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 9 اکتوبر 2026 کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے معروف عالم دین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے نعمتِ الٰہی، توبہ، امتحان، شہدائے مقاومت اور خطے کی صورتحال پر جامع اور تفصیلی گفتگو کی۔

اپنے پہلے خطبے میں علامہ میثمی نے توبہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ توبہ صرف دل میں ندامت محسوس کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اگر کسی کا حق تلف کیا گیا ہے یا مال چھینا گیا ہے، تو اس کا حق واپس کرنا اور معافی مانگنا بھی توبہ کے لازمی تقاضوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ آزمائش پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امتحانات مؤمن کے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہوتے ہیں، اس لیے مشکل وقت میں مایوسی کے بجائے صبر اور دعا کا دامن تھامنا چاہیے۔ انہوں نے معاشرتی رویوں کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی گناہ گار کو حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے اور نہ ہی اس پر توبہ کے دروازے بند کرنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں : مسلمان قرآن پر عمل کرتے تو آج دنیا پر حکمرانی کر رہے ہوتے، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

دوسرے خطبے میں علامہ شبیر میثمی نے شہید سید حسن نصراللہ اور دیگر شہدائے مقاومت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء کی قربانیوں کی مثال تاریخِ اسلام میں شہدائے کربلا سے ملتی ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص یمن اور سعودی عرب کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلے کا حل مذاکرات اور صلح کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کے لیے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرے، جبکہ او آئی سی کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔

علامہ میثمی نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اختلافات ختم کر کے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے عوام کو بھی تلقین کی کہ وہ بچت اور کفایت شعاری کو اپنائیں، غیر ضروری اخراجات سے بچیں اور خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات میں اسراف اور غیر شرعی امور سے مکمل اجتناب کریں۔

3:24 شام اکتوبر 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔