مشرق وسطیٰ میں امریکی پسپائی، پاکستان کسی جنگ کا فریق نہ بنے، علامہ سید جواد نقوی

10 اکتوبر, 2026 13:38

شیعیت نیوز : تحریکِ بیداری امت مصطفیٰ پاکستان کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے عالمی ‘یومِ طوفان الاقصٰی’ کے موقع پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں لڑی جانے والی امریکی جنگ کا فریق بننے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے ریاستی فیصلہ سازوں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی نئے امریکی منصوبے کا حصہ بننے سے قبل افغان جنگ کے تباہ کن اثرات کو پیشِ نظر رکھا جائے، جن کا خمیازہ ملک آج بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی، دہشت گردی اور مذہبی منافرت کی صورت میں بھگت رہا ہے۔

علامہ جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ طوفان الاقصیٰ ایک صدی سے ظلم و بربریت کا شکار فلسطینی قوم کی بقا اور حقِ خودارادیت کی مزاحمت کا روشن مظہر ہے، جس کے ثمرات اب لبنان، یمن اور ایران تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم جدوجہد نے نہ صرف عالمی طاقتوں کے منافقانہ اور دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے، بلکہ مظلوموں کی حمایت کا دعویٰ کرنے والے مسلمان حکمرانوں کا بھی حقیقی امتحان لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آل سعود اجرتی جنگجوؤں کے بل بوتے پر مقابلہ نہیں کر سکتے، انصاراللہ

سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ نے خطے کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ محاذِ مزاحمت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی عسکری برتری اور ناقابلِ تسخیر ہونے کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور افغانستان سے انخلا کا مطلب امریکی مداخلت کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ مقامی آلہ کاروں کے ذریعے اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اب امریکہ خطے میں براہِ راست جنگ کا بوجھ سعودی اتحاد اور دیگر اتحادیوں پر ڈال کر مزاحمت کے خلاف پراکسی جنگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ علامہ جواد نقوی نے پاکستانی قیادت پر زور دیا کہ وہ کسی بھی سامراجی جنگ کا ایندھن بننے کے بجائے قومی مفادات اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو اولین ترجیح دے۔

2:34 شام اکتوبر 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔