کیلیفورنیا پر ایران کے ممکنہ حملے کا خوف، ڈونلڈ ٹرمپ تنقید کے بعد اپنے ہی بیان سے مکر گئے
ٹرمپ
شیعیت نیوز : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست کیلیفورنیا کے شہروں پر ایران کے ممکنہ حملوں سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر شدید اندرونی تنقید کے بعد دفاعی پوزیشن پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کی ممکنہ تباہی کے حوالے سے ان کے الفاظ کی غلط تشریح کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے ریاست نیبراسکا میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگی حالات میں اخراجات میں اضافہ ایک معمولی قیمت ہے۔ اس خطاب کے دوران انہوں نے ایران کی جانب سے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو جیسے بڑے امریکی شہروں کو نشانہ بنائے جانے کے امکان کا واضح ذکر کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس بیان پر اندرونِ ملک شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور متعدد امریکی حکام اور سیاسی رہنماؤں نے ان پر کڑی تنقید کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : مسلط کردہ جنگوں میں پولیس کا دفاعی کردار نمایاں رہا، رہبر انقلاب اسلامی کا ہفتہ پولیس پر اہم پیغام
اس شدید ردعمل کے بعد امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے بیان کی صفائی پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا اصل مطلب یہ تھا کہ پٹرول کی قیمتوں میں عارضی اضافہ، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے مقابلے میں ایک معمولی قیمت ہے۔ تاہم، ایران کی طاقت سے خائف ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اگر ایران لاس اینجلس یا سان ڈیاگو پر واقعی حملہ کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں امریکہ کو موجودہ اندازوں سے کہیں زیادہ بھاری اور ناقابل برداشت اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔







